ملفوظات (جلد 9) — Page 104
جَهَنَّمُ(النّسآء:۹۴) یعنی جو شخص کہ ایک مومن کو بلاکسی کافی عذر کے قتل کر دے پس اس کی سزا جہنم ہے۔پس ہم تو الٰہی فیصلہ کے منتظر ہیں اور یہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے شخص پر میرا غضب نازل ہوگا۔پس خدا کے غضب سے اور کون سی چیز ہے جو خطرناک ہے! مسواک کو پسند فرمانا حضرت صاحب مسواک کو بہت پسند فرماتے ہیں اور علاوہ مسواک کے اور مختلف چیزوں سے دن میں کئی دفعہ دانتوں کو صاف کرتے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی یہی سنّت تھی۔پس سب کو چاہیے کہ اس طرف بھی توجہ رکھا کریں۔آزمائش کے بغیر ایمان کوئی حقیقت نہیں رکھتا فرمایا کہ لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم مومن ہیں اور مسلمان ہیں لیکن وہ اصل میں نہیں ہوتے۔زبانی اقرار تو ایک آسان بات ہے لیکن کر کے دکھانا اور بات ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ(العنکبوت:۳) یعنی کیا لوگ گمان کرتے ہیں کہ وہ مومن اور پکے ایماندار ہیں اور ابھی وہ آزمائے نہیں گئے۔پس جب تک کہ آزمائش نہ ہو ایمان کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔بہت لوگ ہیں جو آزمائش کے وقت پھسل جاتے ہیں اور تکلیف کے وقت ان کا ایمان ڈگمگا جاتا ہے۔ایک یہودی کا قصہ ہے جو کہ ایک بڑا طبیب گذرا ہے اور جس کا نام ابو الخیر تھا کہ ایک دفعہ وہ ایک کوچہ میں سے گذر رہا تھا جبکہ اس نے ایک شخص کو یہ پڑھتے ہوئے سنا کہ اَحَسِبَ النَّاسُ الآیۃ۔اگرچہ وہ یہودی تھا۔اس نے آیت کو سن کر اپنے ہاتھوں سے ایک دیوار پر ٹیک لگا لی اور سر جھکا کر رونے لگا۔جب رو چکا تو اپنے گھر آیا اور جب وہ سو گیا تو اس نے خواب میں دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور انہوں نے آکر فرمایا کہ اے ابو الخیر! تعجب ہے کہ تیرے جیسا فضل و کمال والا انسان مسلمان نہ ہو۔صبح جب اٹھا تو اس نے تمام شہر میں اعلان کر دیا کہ میں آج مذہب اسلام قبول کرتا ہوں۔فرمایاکہ یہود کا قبول اسلام یہودی اگرچہ آجکل بہت تھوڑے ہیں لیکن وہ اصل میںبہت سے مسلمان ہوگئے تھے جیسا کہ اوپر ایک قصہ بیان بھی کیا ہے۔کچھ تو