ملفوظات (جلد 9) — Page 106
(بوقتِ عصر) جاپان کی نسبت کسی نے کچھ استفسار کیا۔فرمایا۔آج کل ان لوگوں کی توجہ دنیا کی طرف ہے پس مذہب کی طرف کب توجہ کرتے ہیں۔ہاں اسباب ایسے جمع ہو رہے ہیں جس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ کم از کم اپنے مذہب سے بے زار ہیں اور ان کا مذہب ہے ہی کیا؟ کچھ بھی نہیں۔بہرحال یہ امید غالباً صحیح نہ نکلے گی کہ وہ عیسائی ہوجائیں۔کیونکہ ایسا مذہب تو ان کا اپنا بھی ہے۔ترقی و تمدن کے تمام لوازمات انہیں اگر کسی مذہب پر بر انگیخت کر سکتے ہیں تو وہ ’’اسلام‘‘ ہے کیونکہ یہی ایک مذہب ہے جس میں تمام خوبیاں ہیں اور کسی انسان کے بیٹے کو خدا نہیں بنایا جاتا۔۲۔مومن کے مقابلہ میں کذاب کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا سچے میں سچ کی ایک ایسی طاقت ہوتی ہے کہ بڑے بڑے بہادر اس کے مقابلہ سے جھجکتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے حق میں ایک قوت غلبہ رکھی ہے۔یہ لوگ اتنا نہیں سوچتے کیا خدا مکّاروں مفتریوں کی ایسی نصرت و تائید کیا کرتا ہے جو میری کی؟ خدا نے میرے مخالفوں کو ہر بات میں جھوٹا کیا مگر افسوس انہوں نے بہت کم فائدہ اٹھایا۔حقیقت الوحی ایک ایسا مجموعہ نشانات طیار ہوگا کہ دشمن کو مجال گریز نہ رہے گی آخر کس کس بات کو جھٹلائیں گے۔کچھ تو ماننا پڑے گا۔۱ ۲۳؍فروری ۱۹۰۷ء (بوقتِ عصر) فرمایا۔دنیا داروں میں کچھ نہ کچھ پرخاش رہتی ہے اس کی وجہ وہی گند ہے جو دونوں دلوں میں پنہاں ہوتا ہے خواہ کتنا چھپائیں مگر آخر کسی نہ کسی وقت وہ مادہ پھوٹ نکلتا ہے۔قصاب خواہ دو سگے بھائی ہوں تو بھی ایک دوسرے سے سلوک نہیں رکھ سکتے۔ایک کی دکان