ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 103

(غلام فرید صاحب مرحوم ساکن چاچڑاں) ہمارا معتقد تھا۔نواب بہاولپور شاید اس نوجوانی کی عمر میں واپس آتا تو غلطیوں میں مرتکب ہوجاتا۔اس کا حسن خاتمہ بطور یادگار رہے گا۔(بوقتِ عصر) آداب تلاوت ایک صاحب نے سوال کیا کہ قرآن شریف کس طرح پڑھا جاوے؟ حضرت اقدس نے فرمایا۔قرآن شریف تدبر و تفکر اور غور سے پڑھنا چاہیے۔حدیث شریف میں آیا ہے رُبَّ قَارٍ یَّلْعَنْہُ الْقُرْاٰنُ یعنی بہت ایسے قرآن کریم کے قاری ہوتے ہیں جن پر قرآن لعنت بھیجتا ہے۔جو شخص قرآن پڑھتا اور اس پر عمل نہیں کرتا اس پر قرآن مجید لعنت بھیجتا ہے۔تلاوت کرتے وقت جب قرآن کریم کی آیت رحمت پر گذر ہو تو وہاں خدا تعالیٰ سے رحمت طلب کی جاوے اور جہاں کسی قوم کے عذاب کا ذکر ہو تو وہاں خدا تعالیٰ کے عذاب سے خدا تعالیٰ کے آگے پناہ کی درخواست کی جاوے اور تدبر و غور سے پڑھنا چاہیے اور اس پر عمل کیا جاوے۔۱ امیر حبیب اللہ خان والیءِ افغانستان یہ ڈائری اس وقت کی ہے جبکہ حضرت اقدس اندر کے مکان میں ہوتے ہیں اور اس کو صاحبزادہ حضرت مرزا محمود احمد صاحب نے لکھ کر اپنے رسالہ تشحیذ الاذہان کے جلد ۲ نمبر ۱ میں درج کیا ہے۔اور وہاں سے ہم نقل کرتے ہیں۔امیر حبیب اللہ خاں والیءِ افغانستان کی آمد پر فرمایا کہ لوگ اس کے لیے بڑے بڑے جلسے کرتے ہیں اور اس کے آنے پر خوش ہیں۔مگر ہم اس کا آنا نہ آنا برابر سمجھتے ہیں ہم اس آدمی کی پروا ہی کیا کرتے ہیں جو خدا کے احکام پر عمل نہ کرے۔ہمارا بادشاہ خدا ہے اور امیر حبیب اللہ اس کا مجرم ہے کیونکہ اس نے بلا کسی حق کے صاحبزادہ عبداللطیف کو صرف اس لیے کہ وہ گورنمنٹ انگریزی سے جہاد کو ناجائز قرار دیتے تھے قتل کیا اور پھر نہایت بےدردی کے ساتھ۔ایسے شخص کے لیے خدا تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ