ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 93

پھر حضرت اقدس نے فاضل امروہی سے استفسار فرمایا کہ خطوط سے معلوم ہوتا ہوگا آپ کی طرف بارش زور سے برس رہی ہے یا نہیں؟ مولوی صاحب نے عرض کی کہ اس طرف اتنی بارش نہیں ہے جس قدر اس طرف برس رہی ہے۔پھر حضرت نے بیماری طاعون کا حال پوچھا۔مولوی صاحب نے عرض کی کہ بیماری اس طرف بہت ہے۔پھر حضرت اقدس نے فرمایا کہ مولوی ثناء اللہ امرتسری ثناء اللہ لکھتا ہے کہ سعد اللہ کی وفات کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔حالانکہ یہ پیشگوئی روزِ روشن کی طرح پوری ہوگئی ہے حقیقۃ الوحی میں اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے متعلق زبردست دلائل لکھے جاویں گے۔مولوی محمد حسین بٹالوی فرمایا۔ثناء اللہ بہ نسبت محمد حسین بٹالوی کے بد گوئی میں بڑھ گیا ہے۔محمد حسین بٹالوی کا ذکر ہوا۔فاضل امروہی نے عرض کی کہ ایک وہ زمانہ تھا کہ اس نے کہا تھا کہ میں نے ہی ان کو یعنی حضور کو عروج پر چڑھایا تھا اور میں ہی گرادوں گا مگر معاملہ برعکس ہوا۔(محمد حسین کے اس چڑہاؤ و اتار سے مراد پہلے براہین احمدیہ میں ریویو لکھنا اور پھر حضرت اقدس پر تکفیر کا فتویٰ تیار کرنا اور مولویوں کی مہریں لگانا ہے) اس جگہ تو یَوْمًا فَیَوْمًا ترقی ہو رہی ہے اور شرق و غرب کی مخلوق آ پہنچی ہے اور محمد حسین اکیلا و طرید رہ گیا ہے۔اکثر احباب نے اس کو چھوڑ دیا ہے ایک زمانہ تھا کہ اشاعت السنّۃ سے اس کو تین سو روپیہ تک بچ جاتا تھا۔اب کوئی اس سے پوچھے کہ کیا حال ہے؟ حضرت نے فرمایا۔محمد حسین ہمیشہ ہمارے پاس آیا جایا کرتا تھا۔پندرہ روز تک بٹالہ میں نہیں ٹھہر سکتا تھا بلکہ ہمارے پاس آجاتا تھا۔ایک دفعہ اس کے متعلق اس کے باپ نے ایک سخت ناگوار اشتہار دینا چاہا تھا اور محمد حسین نے مجھے کہا کہ میرے باپ کو اس اَمر سے منع کرو۔چنانچہ ہم نے اس کو اس اَمر سے روکا تھا۔میر ناصر نواب صاحب نے خواب بیان کی کہ تھوڑے روز ہوئے میں نے محمد حسین کو خواب میں دیکھا