ملفوظات (جلد 9) — Page 92
کی عدم حریت و آزادی کے متعلق ذکر ہوا۔۱ فرمایا کہ اخبارات میںجو آجکل لکھا جارہا ہے کہ حکومت افغانستان میں ہر مذہب کے لوگوں کو عام آزادی حاصل ہے سرا سر دروغ بے فروغ ہے کیونکہ اگر افغانستان میں ہندوستان جیسی حریت اور آزادی ہر مذہب کے لوگوں کو حاصل ہوتی تو اخوند زادہ حضرت مولوی محمد عبد اللطیفؓ کو اس سخت بے دردی سے اختلافِ مذہب کے سبب اس حکومت میں ہلاک نہ کیا جاتا۔۲ تازہ وحی بعد ازاں حضرت نے خدا تعالیٰ کی تازہ وحی کا ذکر فرمایا جو پہلے۳ درج ہوچکی ہے اور اس میں سے مندرجہ ذیل فقرہ سنایا۔آسمان ٹوٹ پڑا سارا معلوم نہیں کیا ہونے والا ہے۔تشریح میں فرمایا۔اگرچہ کثرت بارش سے بھی آسمان کا ٹوٹ پڑنا مراد ہو سکتا ہے مگران الہامات کی تشریح میں ہم کسی پہلو پر زور نہیں دیتے۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے جس رنگ و صورت میں چاہا، واقع ہوں گے۔ان الہامات سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی وحشت ناک اَمر واقع ہونے والا ہے جس سے لوگ متحیر و خوف زدہ ہوجاویں گے۔لہٰذا خدا تعالیٰ نےا ن کی طرف سے حکایتاً بیان فرمایا ہے کہ معلوم نہیں کیا ہونے والا ہے۔فرمایا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت دور نہیں ہے۔قریب آگیا ہے۔بدر سے۔’’افغانستان کا ذکر تھا کہ اگر ہماری جماعت کے لوگ جو کہ اس جگہ ہیں تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھیں تو امید ہے کہ بہت فائدہ ہو۔فرمایا۔اگر ایک شخص بھی تمہارے ذریعہ سے دین کو اچھی طرح سمجھ لے تو یہ ایک بڑے ثواب کاکام ہے۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۸ مورخہ ۲۱؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۴) ۲ بدر سے۔’’خیر ہم خدا تعالیٰ پر امید رکھتےہیں کہ وہ ضرور کوئی نہ کوئی راہ پیدا کر دے گا جس سے ان ممالک میں پوری تبلیغ ہوگی۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۸ مورخہ ۲۱؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۴) ۳ الحکم میں ایک اور جگہ یوں درج ہے۔’’آسمان ٹوٹ پڑا سارا۔کچھ معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے‘‘ (الحکم جلد ۱۱ نمبر ۶ مورخہ ۱۷؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱