ملفوظات (جلد 8) — Page 84
قرآن شریف کی زبردست شہادت کی موجودگی میں میری کسی ایسی پیشگوئی پر جو پہلے ہی سے شرطی تھی اعتراض کرنا تقویٰ کے خلاف ہے۔متقی کی یہ شان نہیں کہ بغیر سوچے سمجھے منہ سے بات نکال دے اور تکذیب کو آمادہ ہو جاوے۔حضرت یونسؑ کا قصہ نہایت دردناک اور عبرت بخش ہے۔اور وہ کتابوں میں لکھا ہوا ہے اُسے غور سے پڑھو۔یہاں تک کہ وہ دریا میں گرائے گئے۔اور مچھلی کے پیٹ میں گئے۔تب توبہ منظور ہوئی۔یہ سزا اور عتاب حضرت یونس پر کیوں ہوا؟ اس لئے کہ انہوں نے خدا کو قادر نہ سمجھا کہ وہ وعید کو ٹال دیتا ہے۔پھر تم لوگ کیوں میرے متعلق جلدی کرتے ہو؟ اور میری تکذیب کے لئے ساری نبوتوں کو جھٹلاتے ہو؟ خونی مہدی کا عقیدہ یاد رکھو! خدا کا نام غفور ہے پھر کیوں وہ رجوع کرنے والوں کو معاف نہ کرے؟ اِس قسم کی غلطیاں ہیں جو قوم میں واقع ہوگئی ہیں۔انہیں غلطیوں میں سے جہاد کی غلطی بھی ہے۔مجھے تعجب ہے کہ جب میں کہتا ہوں کہ جہاد حرام ہے تو کالی پیلی آنکھیں نکال لیتے ہیں۔حالانکہ خود ہی مانتے ہیں کہ جو حدیثیں خونی مہدی کی ہیں وہ مخدوش ہیں۔مولوی محمد حسین بٹالوی نے اس باب میں رسالے لکھے ہیں اور یہی مذہب میاں نذیر حسین دہلوی کا تھا۔وہ ان کوقطعی صحیح نہیں سمجھتے۔پھر مجھے کیوں کاذب کہا جاتا ہے؟ سچی بات یہی ہے کہ مسیح موعود اور مہدی کا کام یہی ہے کہ وہ لڑائیوں کے سلسلہ کو بند کرے گا۔اور قلم، دعا ،توجہ سے اسلام کا بول بالا کرے گا۔اور افسوس ہے کہ لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی اس لئے کہ جس قدر توجہ دنیا کی طرف ہے دین کی طرف نہیں۔دنیا کی آلودگیوں اور ناپاکیوں میں مبتلا ہو کر یہ امید کیونکر کر سکتے ہیں کہ اُن پر قرآن کریم کے معارف کھلیں۔وہاں تو صاف لکھا ہے لَا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ۠(الواقعۃ:۸۰)۔مسیح موعود کی بعثت کی علّتِ غائی اس بات کو بھی دل سے سنو کہ میرے مبعوث ہونے کی علّتِ غائی کیا ہے؟ میرے آنے کی غرض اور مقصود صرف اسلام کی تجدید اور تائید ہے۔اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ میں اس لئے آیا ہوں کہ کوئی نئی شریعت سکھاؤں یا نئے احکام دوں یا کوئی نئی کتاب نازل ہوگی۔ہرگز نہیں اگر کوئی شخص یہ