ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 83 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 83

بکرے دو، کپڑے دو،یہ دو وہ دو۔اگر اس کے ذریعہ سے ردِّ بلا نہیں ہوتا تو پھر اضطراراً انسان کیوں ایسا کرتاہے؟ نہیں ردِّ بلا ہوتا ہے۔ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر کے اتفاق سے یہ بات ثابت ہے۔اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ صرف مسلمانوں ہی کا مذہب نہیں بلکہ یہودیوں، عیسائیوں اور ہندوؤں کا بھی یہ مذہب ہے اور میری سمجھ میں روئے زمین پر کوئی اس امر کا منکر ہی نہیں جبکہ یہ بات ہے تو صاف کھل گیا کہ وہ ارادۂ الٰہی ٹل جاتا ہے۔پیشگوئی اور ارادۂ الٰہی میں صرف یہ فرق ہوتا ہے کہ پیشگوئی کی اطلاع نبی کو دی جاتی ہے اور ارادۂ الٰہی پر کسی کو اطلاع نہیں ہوتی۔اور وہ مخفی رہتا ہے۔اگر وہی ارادۂ الٰہی نبی کی معرفت ظاہر کر دیا جاتا تو وہ پیشگوئی ہوتی۔اگر پیشگوئی نہیں ٹل سکتی تو پھر ارادۂ الٰہی بھی صدقہ خیرات سے نہیں ٹل سکتا۔لیکن یہ بالکل غلط ہے۔چونکہ وعید کی پیشگوئیاں ٹل جاتی ہیں۔اس لئے فرمایا اِنْ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِيْ يَعِدُكُمْ(المؤمن:۲۹)۔اب اللہ تعالیٰ خود گواہی دیتا ہے کہ بعض پیشگوئیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی بھی ٹل گئیں۔اگر میری کسی پیشگوئی پر ایسا اعتراض کیا جاتا ہے تو مجھے اس کا جواب دو۔اگر اس امر میں میری تکذیب کروگے تو میری نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی تکذیب کرنے والے ٹھہروگے۔میں بڑے وثوق سے کہتا ہوں کہ یہ کُل اہل سنت جماعت اور کُل دنیا کا مسلّم مسئلہ ہے کہ تضرّع سے عذاب کا وعدہ ٹل جایا کرتا ہے۔کیا حضرت یونس علیہ السلام کی نظیر بھی تمہیں بھول گئی ہے؟ حضرت یونسؑ کی قوم سے جو عذاب ٹل گیا تھا اس کی وجہ کیا تھی؟ درمنثور وغیرہ کو دیکھو اور بائبل میں یُونہ نبی کی کتاب موجود ہے۔اس عذاب کا قطعی وعدہ تھا مگرحضرت یونسؑ کی قوم نے عذاب کے آثار دیکھ کر توبہ کی اور اس کی طرف رجوع کیا۔خدا تعالیٰ نے اس کو بخش دیا اور عذاب ٹل گیا۔اُدھر حضرت یونسؑ یوم مقررہ پر عذاب کے منتظر تھے۔لوگوں سے خبریں پوچھتے تھے۔ایک زمیندار سے پوچھا کہ نینوہ کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا کہ اچھا حال ہے۔تو حضرت یونسؑ پر بہت غم طاری ہوا۔اور انہوں نے کہا لَنْ اَرْجِعَ اِلٰی قَوْمِیْ کَذَّابًا۔یعنی میں اپنی قوم کی طرف کذّاب کہلا کر نہیں جاؤںگا۔اب اس نظیر کے ہوتے ہوئے اور