ملفوظات (جلد 8) — Page 50
سماع ذکر آیا کہ بعض بزرگ راگ سنتے ہیں آیا یہ جائز ہے؟ فرمایا۔اس طرح بزرگان دین پر بد ظنی کرنا اچھا نہیں۔حسن ظن سے کام لینا چاہیے۔حدیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اشعار سنے تھے۔لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک صحابی مسجد کے اندر شعر پڑھتا تھا۔حضرت عمر نے اس کو منع کیا۔اس نے جواب دیا میں نبی کریم کے سامنے مسجد میں شعر پڑھا کرتا تھا تو کون ہے جو مجھے روک سکے؟ یہ سن کر حضرت امیر المؤمنین بالکل خاموش ہوگئے۔قرآن شریف کو بھی خوش الحانی سے پڑھنا چاہیے۔بلکہ اس قدر تاکید ہے کہ جو شخص قرآن شریف کو خوش الحانی سے نہیں پڑھتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔اور خود اس میں ایک اثر ہے۔عمدہ تقریر خوش الحانی سے کی جائے تو اس کا بھی اثر ہوتا ہے۔وہی تقریر ژولیدہ زبانی سے کی جائے تو اس میںکوئی اثر نہیں ہوتا۔جس شے میں خدا نے تاثیر رکھی ہے اس کو اسلام کی طرف کھینچنے کا آلہ بنایا جائے تو اس میں کیا حرج ہے۔حضرت داؤد کی زبور گیتوں میں تھی جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ جب حضرت داؤد خدا کی مناجات کرتے تھے تو پہاڑ بھی ان کے ساتھ روتے تھے اور پرندے بھی تسبیح کرتے تھے۔مزامیر یہاں ایک شخص درمیان میں بول پڑا کہ مزامیر کے متعلق آپ کا حکم کیا ہے؟ فرمایا۔بعض نے قرآن شریف کے لفظ لَهْوَ الْحَدِيْثِ (لقمان:۷) کو مزامیر سے تعبیر کیا ہے۔مگر میرا مذہب یہ ہے کہ ہر ایک شخص کو مقام اور محل دیکھنا چاہیے۔ایک شخص کو جو اپنے اندر بہت سے علوم رکھتا ہے اور تقویٰ کے علامات اس میں پائے جاتے ہیں اورمتقی با خدا ہونے کی ہزار دلیل اس میں موجود ہے۔صرف ایک بات جو تمہیں سمجھ میں نہیں آتی اس کی وجہ سے اسے بُرا نہ کہو۔اس طرح انسان محروم رہ جاتا ہے۔بایزید بسطامیؒ کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ لوگ بہت ان کے گرد ہوئے اور ان کے وقت کو پراگندہ کرتے تھے۔رمضان کامہینہ تھا۔انہوںنے سب کے سامنے روٹی کھانی شروع کر دی۔تب سب لوگ کافر کہہ کر بھاگ گئے۔عوام واقف نہ تھے کہ یہ مسافر ہے