ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 51

اور اس کے واسطے روزہ ضروری نہیں۔لوگ نفرت کر کے بھاگے۔ان کے واسطے عبادت کے لیے مقام خلوت حاصل ہوگیا۔خضری اسرار یہ اسرار ہیں اور ان کے واسطے ایک عمدہ مثال خود قرآن شریف میں موجود ہے جہاں حضرت خضر نے ایک کشتی توڑ ڈالی اور ایک لڑکے کو قتل کر دیا۔کوئی ظاہر شریعت ان کو ایسے کام کی اجازت نہ دے سکتی تھی۔اس قصہ سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔خضری اسرار اس امت میں ہمیشہ پائے جاتے رہے ہیں۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام کمالات متفرقہ کے جامع تھے اور ظلی طور پر وہ کمالات آنحضرت کی امت میں بھی موجود ہیں۔جو خضر نے کیا آئندہ صاحبان کمالات بھی حسب ضرورت کرتے ہیں۔جہاں حضرت خضر نے ایک نفس زکیہ کو قتل کر دیا اس کے بالمقابل مزامیر کیا شے ہے۔لہٰذا جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔جلد بازی انسان کو ہلاک کر دیتی ہے۔دوسری علامات کو دیکھنا چاہیے جو اولیاء الرحمٰن میں پائی جاتی ہیں۔ان لوگوں کا معاملہ بہت نازک ہوتا ہے۔اس میں بڑی احتیاط لازم ہے۔جو اعتراض کرے گا وہ مارا جائے گا۔تعجب ہے کہ زبان کھولنے والے خود گندے لوگ ہوتے ہیں اور ان کے دل ناپاک ہوتے ہیں اور پھر بزرگوں پر اعتراض کرتے ہیں۔یہ بھی میں دیکھتا ہوں کہ اولیاء اللہ میں کسی ایسی بات کا ہونا بھی سنت اللہ میں چلا آتا ہے۔جیسا کہ خوبصورت بچے کو جب ماں عمدہ لباس پہنا کر باہر نکالتی ہے تو اس کے چہرے پر ایک سیاہی کا داغ بھی لگا دیتی ہے تاکہ وہ نظر بد سے بچا رہے۔ایسا ہی خدا بھی اپنے پاکیزہ بندوں کے ظاہری حالات میں ایک ایسی بات رکھ دیتا ہے جس سے بد لوگ اس سے دور رہیں اور صرف نیک لوگ اس کے گرد جمع رہیں۔سعید آدمی چہرے کی اصلی خوبصورتی کو دیکھتا ہے اور شقی کا دھیان اس داغ کی طرف رہتا ہے۔امرتسر کا واقعہ ہے۔ایک دعوت میں چند مولوی شریک تھے اور صاحب مکان نے مجھے بھی بلایا ہوا تھا۔چائے لائی گئی میں نے پیالی بائیں ہاتھ سے پکڑی۔تب سب نے اعتراض کیا کہ یہ سنت