ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 49 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 49

بعض مساجد کسی صحیح نیت سے نہیں بنوائی جاتیں بلکہ صرف اس واسطے بنائی جاتی ہیں کہ ہماری مسجد ہو اور کہلائے۔فرمایا۔کُل امور نیت صحیح اور دل کے تقویٰ پر موقوف ہیں۔ایک بزرگ کے پاس بہت دولت تھی۔کسی نے اعتراض کیا اس نے جواب دیا۔؎ کے انداختم در دل مگر انداختم در گل غرض خدا کے ساتھ دل لگا کر جب دنیوی کاروبار کرتا ہے تو کوئی شے اسے خدا سے مانع نہیں ہو سکتی خواہ کتنے ہی بڑے مشاغل کیوں نہ ہوں۔ہندوستان میں اسلام تلوار کے زور سے نہیں پھیلا فرمایا کہ یہ بالکل غلط ہے کہ ہند میں اسلام تلوار کے ذریعہ سے پھیلا۔ہرگز نہیں۔ہند میں اسلام بادشاہوں نے بجبر نہیں پھیلایا بلکہ ان کو تو دین کی طرف بہت ہی کم توجہ تھی۔اسلام ہند میں ان مشائخ اور بزرگان دین کی توجہ، دعا اور تصرفات کا نتیجہ ہے جو اس ملک میں گذرے تھے۔بادشاہوں کو یہ توفیق کہاں ہوتی ہے کہ دلوںمیں اسلام کی محبت ڈال دیں۔جب تک کوئی آدمی اسلام کا نمونہ خود اپنے وجود سے نہ ظاہر کرے تب تک دوسرے پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔یہ بزرگ اللہ تعالیٰ کے حضور میں فنا ہو کر خود مجسم قرآن اور مجسم اسلام اور مظہر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بن جاتے ہیں۔تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ایک جذب عطا کیا جاتا ہے اور سعید فطرتوں میں ان کا اثر ہوتا چلا جاتا ہے۔نوے کروڑ مسلمان ایسے لوگوں کی توجہ اور جذب سے بن گیا۔تھوڑے سے عرصہ میں کوئی دین اس کثرت کے ساتھ کبھی نہیں پھیلا۔یہی لوگ تھے جنہوں نے صلاح و تقویٰ کا نمونہ دکھلایا اور ان کی برہان قوی نے جوش مارا اور لوگوں کو کھینچا۔مگر یہ بزرگ بھی عوام کی طعن و تشنیع سے خالی نہ تھے۔گو ہم زیادہ تر ان لوگوں کے آگے گالیوں کے لیے تختہ مشق ہو رہے ہیں تاہم ان سب نے دکھ اٹھایا۔یہ ہمارے علماء ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرتے ہی رہے ہیں۔