ملفوظات (جلد 8) — Page 48
کھانا پینا حرام ہے جب تک اس پہلو کو پیش نہ کر لے۔اے مسلمانو! سوچو اس میں تمہارا کیا حرج ہے کہ عیسیٰ فوت ہوگیا۔کیا تمہارا پیارا نبی فوت نہیں ہوگیا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے نام پر تمہیں غصہ نہیں آتا۔عیسیٰ کی وفات کا نام سن کر تمہیں کیوں غصہ آتا ہے؟ میرا مطلب نفسانیت کا نہیں۔میں کوئی شہرت نہیں چاہتا۔میں تو صرف اسلام کی ترقی چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ میرے دل کو خوب جانتا ہے۔اسی نے میرے دل میں یہ جوش ڈال دیا۔میں اپنی طرف سے بات نہیں کہتا۔پچیس برس سے خدا تعالیٰ کا الہام مجھ سے یہ بات کہلا رہا ہے۔اسی زمانہ کا یہ الہام ہے اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ خدا چاہتا ہے کہ مجرم علیحدہ ہوجائیں اور راستباز علیحدہ ہوجائیں۔میرے پر حملہ کرنے کا کچھ فائدہ نہیں۔بصیرت والا اپنی بصیرت کو نہیں چھوڑ سکتا۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر کوئی صادق طالب حق ہے تو میرے پاس آوے۔میں تازہ تر نشان دکھاؤں گا۔کیا میں اس قدر یقین کو ترک کر کے تمہاری ظنی باتوں کے پیچھے پڑ جاؤں۔جس شخص کو خدا نے بصیرت دی، نشانوں کے ساتھ اپنے مخاطبات اورمکالمات کے ساتھ اس کی صداقت پرمہر لگا دی وہ تمہاری خیالی باتوں کو کیا کرے؟ اگر تم اس قدر باتوں کو دیکھ کر بھی ایمان نہیں لا سکتے تو اِعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّيْ عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ (الانعام:۱۳۶) تم اپنی جگہ اپنا کام کرو میں اپنا کام کرتا ہوں۔عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ سچا کون ہے۔۱ ۲۸؍اکتوبر ۱۹۰۵ء (بمقام دہلی) ویران مساجد دہلی کے ارد گرد بہت سی ویران مساجد کا تذکرہ تھا۔حضرت نے فرمایا۔ان کا مرمت کرانا کچھ مشکل امر نہ تھا۔اگر لوگ چاہتے تو کر لیتے مگر جب خدا تعالیٰ کسی امر سے توجہ کو ہٹا دیتا ہے تو پھر کوئی کر ہی کیا سکتا ہے۔علاوہ ازیں ۱بدر جلد ۱ نمبر ۳۶ مورخہ ۱۷؍نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۳تا۵