ملفوظات (جلد 8) — Page 47
پھیلانے کے واسطے تلوار نہیں اٹھائی بلکہ دشمنوں کے حملوں کو روکنے کے واسطے اور وہ بھی بہت برداشت اور صبر کے بعد غریب مسلمانوں کو ظالم کفار کے ہاتھ سے بچانے کے واسطے جنگ کی گئی تھی۔اور اس میں کوئی پیش قدمی مسلمانوں کی طرف سے نہیں ہوئی تھی۔یہی جہاد کا سِر ہے۔آج کل عیسائیوں کے حملے تلوار کے ساتھ نہیں ہیں بلکہ قلم کے ساتھ ہیں۔پس قلم کے ساتھ ان کا جواب ہونا چاہیے۔تلوار کے ساتھ سچا عقیدہ نہیں پھیل سکتا۔بعض بیوقوف جنگلی لوگ ہندوؤں کو پکڑ کر ان سے جبراً کلمہ پڑھواتے ہیں مگر وہ گھر جا کر پھر ہندو ہی ہندو ہوتے ہیں۔اسلام ہرگز تلوار کے ساتھ نہیں پھیلا بلکہ پاک تعلیم کے ساتھ پھیلا ہے۔صرف تلوار اٹھانے والوں کو تلوار کا مزہ چکھایا تھا۔اب قلم کے ساتھ دلائل اور براہین کے ساتھ اور نشانوں کے ساتھ مخالفوں کو جواب دیا جارہا ہے۔اگر خدا کو یہی منظور ہوتا کہ مسلمان جہاد کریں تو سب سے بڑھ کر مسلمانوں کو جنگی طاقت دی جاتی اور آلات حرب کی ساخت اور استعمال میں ان کو بہت دسترس عطا کی جاتی۔مگر یہاں تو یہ حال ہے کہ مسلمان بادشاہ اپنے ہتھیار یورپ کے لوگوں سے خرید کر لیتے ہیں۔تم میں تلوار نہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا منشاءہی نہیں کہ تم تلوار کا استعمال کرو۔سچی تعلیم اور معجزات کے ساتھ اب اسلام کا غلبہ ہوگا۔میں اب بھی نشان دکھانے کو طیار ہوں۔کوئی پادری آئے اور چالیس روز تک میرے پاس رہے۔تلواروں کو تو زنگ بھی لگ جاتا ہے پر ان نشانات کو جو تازہ ہیں کون زنگ لگا سکتا ہے۔اسلام کی فتح کا ذریعہ اسلام کے واسطے ایک انحطاط کا وقت ہے۔اگر ہمارا طریق ان لوگوں کو پسند نہیں تو فتح اسلام کے واسطے کوئی پہلو یہ لوگ ہم کو بتلائیں ہم قبول کر لیں گے۔اب تو ہر ایک عقلمند نے شہادت دے دی ہے کہ اگر اسلام کی فتح کسی بات سے ہو سکتی ہے تو وہ یہی بات ہے۔یہاں تک کہ خود عیسائی قائل ہیں کہ وفاتِ مسیح کا یہی ایک پہلو ہے جس سے دنیوی مذہب بیخ و بُن سے اکھڑ جاتا ہے۔اگر یہ لوگ عیسائیت کو چھوڑ دیں گے تو پھر ان کے واسطے بجز اس کے اور کوئی دروازہ نہیں کہ اسلام قبول کریں اور اس میں داخل ہو جائیں۔یہی ایک راہ ہے۔اگر کوئی دوسری راہ کسی کو معلوم ہے تو اس پر فرض ہے کہ اس کو پیش کرے بلکہ اس پر