ملفوظات (جلد 8) — Page 39
وحی کی ماہیت طالب علم۔وحی کس طرح سے ہوتی ہے؟ حضرت۔کئی طریق ہیں۔بعض دفعہ دل میں ایک گونج پیدا ہوتی ہے کوئی آواز نہیں ہوتی۔پھر اس کے ساتھ ایک شگفتگی پیدا ہوتی ہے اور بعض دفعہ تیزی اور شوکت کے ساتھ ایک لذیذ کلام زبان پر جاری ہوتا جو کسی فکر و تدبّر اور وہم و خیال کا نتیجہ نہیں ہوتا۔اس کے ساتھ خدا تعالیٰ کے نشانات ہزاروں ہیں۔اگر کوئی چاہے تو اب بھی کم از کم چالیس روز ہمارے پاس رہے اور نشان دیکھ لے۔صادق اور کاذب میں خدا فرق کر دیتا ہے۔آج سے پچیس سال پہلے خداوند تعالیٰ نے مجھے وعدہ دیا تھا کہ تیرے پاس ہر جگہ سے لوگ آئیں گے اور تحفہ تحائف بھی لائیں گے۔یہ ایسے وقت کا الہام ہے کہ ایک آدمی بھی میرے ساتھ نہ تھا۔اب تم اس کی نظیر پیش کرو کہ کیا کوئی آدمی اتنا لمبا افترا کر کے ایسی بڑی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔اور ایک بات نہیں اگر ہمارے پاس آئیں اور کچھ مدت قیام رکھیں تو آپ کو معلوم ہو۔اصل میں تمام مشکلات عدمِ معرفت کے باعث ہوتے ہیں ورنہ حضرت ابو بکر نے کون سا معجزہ مانگا تھا۔علماء امت سے مراد طالب علم۔امت کے علماء بھی انبیاء کی مانند ہیں جو آپ کی مخالفت کرتے ہیں۔حضرت۔میں ان لوگوں کو علماء میں شامل نہیں سمجھتا جن کی زبان پر کچھ اور ہے اور اعمال کچھ اور ہی ہیں۔منبر پر چڑھ کر کچھ کہتے ہیں اور گھر میں جا کر کچھ اور بیان کرتے ہیں۔علماء امت وہ ہیں جو مذہب کی تاکید کرتے ہیں۔مسیح موعود علیہ السلام مستقل نبی نہیں طالب علم۔کیا آپ مستقل نبی ہیں؟ حضرت۔میرے متعلق ایسا کہنا ایک تہمت ہوگی میں اس کو کفر سمجھتا ہوں کہ کوئی مستقل نبی ہونے کا دعویٰ کرے۔