ملفوظات (جلد 8) — Page 38
معنے ہیں خدا سے خبر پاکر بتلانے والا۔ہاں نبوت شریعت ختم ہوچکی ہے۔سچی معرفت بغیر مخاطبات الٰہیہ کے حاصل نہیں ہو سکتی۔اگر یہ بات اس امت کو حاصل نہیں تو خیرِ اُمّت کس طرح سے بن گئی؟ اللہ تعالیٰ نے مخاطبات کا دروازہ بند نہیں کیا۔ورنہ نجات کا کوئی ذریعہ باقی نہ رہتا۔امت محمدیہ میں وحی جاری رہے گی طالب علم۔تو آپ کو وحی ہوتی ہے؟ وحی تو صرف انبیاء کو ہوتی ہے۔حضرت۔خدا تعالیٰ تو قرآن شریف میں فرماتا ہے موسیٰ کی ماں کو بھی وحی ہوئی۔کیا یہ امت عورتوں سے بھی بد تر ہوگئی؟ اس سے تو عارف کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔کیا ہمارے واسطے تمام دروازے بند ہو گئے؟ دنیا دار کو آگے قدم رکھنے کی ضرورت نہیں۔اس امت کو خدا ادھورا رکھنا نہیں چاہتا۔میں نہیں قبول کر سکتا کہ پہلی امتوں نے اس قدر برکات حاصل کیں اور یہ امت بالکل محروم رکھی گئی۔مسیح موعود کا مرتبہ طالب علم۔پھر یہ مرتبہ تو ولی کا ہوا۔حضرت۔ہم کب کہتے ہیں کہ ہمارا مرتبہ وہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا؟ مگر تم نہیں جانتے ولی کا مرتبہ کم نہیں بلکہ بعض کے نزدیک تو ولایت بڑھ کر ہے کیونکہ ولایت محبت، قرب اور معرفت کا ذریعہ ہے اور نبوت ایک عہدہ ہے۔یہود کا تو یہ مذہب ہے کہ حضرت ابراہیم ولی تھے اور تمام انبیاء سے بڑھ کر تھے۔ہم تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے باہر ایک قدم بھی رکھنا کفر سمجھتے ہیں۔ہم کو الہام ہوا ہے کُلُّ بَرَکَۃٍ مِّنْ مُّـحَمَّدٍ ہم اس دائرہ سے باہر نہیں جاتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے باہر جانا تو کفر ہے۔لوگ محجوب ہونے کے سبب وحی کے لفظ سے گھبراتے ہیں۔ورنہ وہاں تو لکھا ہے کہ مکھی کو بھی وحی ہوئی۔بلکہ شیخ عبد القادر نے لکھا ہے کہ جس کو کبھی بھی وحی نہیں ہوئی خوف ہے کہ اس کا خاتمہ بُرا ہو۔معرفت تامہ بجز مکالمہ مخاطبہ کے حاصل نہیں ہو سکتی۔