ملفوظات (جلد 8) — Page 315
دو گے؟ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ کے اعتقاد کے موافق قرآن مجید کی حقانیت کی دلیل اب پیدا ہوئی جب تیرہ سو سال گذر گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت معاذ اللہ کوئی دلیل ہی نہ تھی۔وکیل بابا چٹو۔اس وقت دلیل کی حاجت ہی کیا تھی؟ حضرت اقدس۔تو آپ کے اس جواب کے موافق قرآن شریف اب ثابت ہوا۔اس وقت تک محض ایک بے ثبوت کتاب تھی۔یہ تو بڑے افسوس کی بات ہے کہ آپ کوئی دلیل ہی پیش نہیں کر سکتےبجز اس کے کہ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا(المائدۃ:۱۰۵) یہ تو کفار بھی کہتے تھے۔اگر یہ اصول آپ قرآن مجید کی حقانیت کا پیش کریں گے کہ سب فرقے مانتے ہیں تو پھر ثابت ہوگا کہ دوسرے مذاہب سچے ہیں کیونکہ وہ بھی تو اپنی مذہبی کتاب کو مانتے ہیں۔وکیل بابا چٹو۔ہم ان کی بات کیوں مانیں ہم کہہ دیں گے لَنَاۤ اَعْمَالُنَا (البقرۃ:۱۴۰) حضرت اقدس۔میں بہت افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ آپ لوگوں نے اسلام کی حالت پر غور ہی نہیں کی اور قرآن کریم کو سمجھا ہی نہیں۔اسلام تو اس وقت بتیس دانتوں میں زبان ہو رہا ہے۔ہر طرف سے اس پر حملے اور اعتراض ہو رہے ہیں۔اگر یہی جواب دیا جاوے تو پھر کیا فائدہ ہوگا؟ میں نے پہلے بھی کہا ہے۔اب بھی یہ کہتا ہوں کہ اگر یہ طریق استدلال صحیح ہو تو قطعی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔فرقوں کا مختلف۱ طور پر ایک بات کو مان لینا اس کی حقانیت کی دلیل نہیں ہوا کرتا۔اور یہ ہتھیار اس زمانہ میں ہمارے لیے کام نہیں دے سکتا۔اگر ایک پادری آپ پر اعتراض کرے اور آپ اس کے جواب میں یہ کہہ دیں کہ چونکہ سب فرقے مان رہے ہیں اس لیے ہم قرآن مجید کو خدا کی کتاب مانتے ہیں تو آپ ہی بتائیں کہ اس کا کیا اثر ہوگا؟ میں آپ کو سچ سچ کہتا ہوں اور محض خدا کے لیے کہتا ہوں کہ آپ اس معاملہ پر غور کریں۔ضد اور تعصّب اَور بات ہے اور حق کو قبول کرنا اَور شے ہے۔میںنے بھی مرنا ہے اور آپ نے بھی ایک دن ضرور مرنا ہے۔پھرکیوں موت کو سامنے رکھ کر میرے معاملہ میں غور نہیں کرتے کیا اس امر میں مَیں خدا پر ۱ سہو کاتب معلوم ہوتا ہے ’’متفق طور پر‘‘ہونا چاہیے۔(مرتّب)