ملفوظات (جلد 8) — Page 309
اُخَرَ(البقرۃ:۱۸۵) اس میں کوئی قید اور نہیں لگائی کہ ایسا سفر ہو یا ایسی بیماری ہو۔میں سفر کی حالت میں روزہ نہیں رکھتا اور ایسا ہی بیماری کی حالت میں چنانچہ آج بھی میری طبیعت اچھی نہیں اور میں نے روزہ نہیں رکھا۔چلنے پھرنے سے بیماری میں کچھ کمی ہوتی ہے اس لیے باہر جاؤں گا۔کیا آپ بھی چلیں گے۔بابا چٹو۔نہیں میں تو نہیں جا سکتا آپ ہو آئیں۔یہ حکم تو بے شک ہے مگر سفر میں کوئی تکلیف نہیں پھر کیوں روزہ نہ رکھا جاوے۔حضرت اقدس۔یہ تو آپ کی اپنی رائے ہے۔قرآن شریف نے تو تکلیف یا عدمِ تکلیف کا کوئی ذکر نہیں فرمایا۔اب آپ بہت بوڑھے ہوگئے ہیں۔زندگی کا اعتبار کچھ نہیں۔انسان کو وہ رہ اختیار کرنی چاہیے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہو جاوے اور صراطِ مستقیم مل جاوے۔بابا چٹو۔میں تو اسی لیے آیا ہوں کہ آپ سے کچھ فائدہ اٹھاؤں۔اگر یہ راہ سچی ہے تو ایسا نہ ہو کہ ہم غفلت ہی میں مر جاویں۔حضرت اقدس۔ہاں یہ بہت عمدہ بات ہے۔میں تھوڑی دور ہو آؤں۔آپ آرام کریں۔(یہ کہہ کر حضرت اقدس سیر کو تشریف لے گئے)۱ (قبل دوپہر) اَلصُّلْحُ خَيْرٌ حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور دو بھائیوں کے کسی باہمی نزاع کا ذکر خواجہ صاحب نے کیا۔یہ امر انسانی فطرت کے خلاف نہیں کہ باہم نزاع ہو۔حقیقی بھائیوں میں بھی ہوجاتا ہے اور انسانی اَمْزِجَہ کا اختلاف جو خدا تعالیٰ کی ہستی کا بیّن اور واضح ثبوت ہے اس امر کا مقتضی ہے کہ اختلافِ رائے اور اختلافِ خیال سے کبھی نزاع بھی پیدا ہو مگر وہ نزاع قابلِ ذکر یا قابل لحاظ نہیں ہوا کرتا جہاں خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم کر کے اپنے نزاع کو چھوڑ دیا جاوے۔بہر حال دو بھائیوں کے نزاع کا ذکر تھا اور خواہش یہ کی گئی تھی کہ حضور ارشاد فرماویں گے تو ان ۱ الحکم جلد ۱۱ نمبر ۴ مورخہ ۳۱؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۴