ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 296 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 296

فوراً ہلاک کیا جاتا ہے۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر ایک بڑی دلیل ہے کہ دعویٰ نبوت کے ساتھ آپ ۲۳ سال تک کامیاب ہی ہوتے چلے آئے۔بہت سے اکابر نے اس دلیل کو کفار کے سامنے پیش کیا ہے۔مگر اب چونکہ یہ دلیل ہمارے سلسلہ کی بھی تائید کرتی ہے۔اس واسطے اس سے قطعاً انکار کر بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کوئی دلیل ہی نہیں۔مفتری بڑی مہلت پا سکتا ہے بعض کہتے ہیں کہ یہ دلیل تو ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے خاص ہے۔دوسرے انبیاء کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔نادان نہیں جانتے کہ کیا دلیل بھی خاص اور مخصوص ہوا کرتی ہے؟ جو دلیل خاص ہے وہ تو بجائے خود ایک دعویٰ ہے نہ کہ دلیل۔ایسی ہی غلطی عیسائی لوگ کیا کرتے ہیں کہ جب کوئی بات یسوع کے متعلق پیش کی جاتی ہے کہ اس نے فلاں کام کیوں کیا تو کہہ دیتے ہیں کہ وہ تو خدا تھا اور اس کے واسطے جائز تھا جو چاہتا کرتا۔بیوقوف نہیں جانتے کہ دعویٰ خدائی تو بجائے خود ایک دعویٰ ہے نہ کہ دلیل۔دعویٰ بطور دلیل کے کس طرح پیش ہو سکتا ہے۔سو جھوٹھے دعوے والا کبھی سر سبز نہیں ہوا۔کبھی کسی کاذب کو اتنی مہلت نہیں ملی جتنی کہ آنحضرت کو ملی۔افسوس آتا ہے کہ ہماری عداوت کے سبب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی دشمنی کی جاتی ہے۔جو تبدیلی ہم اس وقت قوم کے درمیان چاہتے ہیں وہ کسی آسمانی طاقت کے ذریعہ سے ہوسکتی ہے۔ورنہ زمینی لوگوں کےاختیار میں نہیں کہ وہ عظیم الشان کام کر دکھلائیں ابتدائے اسلام میں بھی جو کچھ ہوا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا نتیجہ تھا جو کہ مکہ کی گلیوں میں خدا تعالیٰ کے آگے رو رو کر آپ نے مانگیں۔جس قدر عظیم الشان فتوحات ہوئے کہ تمام دنیا کے رنگ ڈھنگ کو بدل دیا وہ سب آنحضرت کی دعاؤں کا اثر تھا۔ورنہ صحابہؓ کی قوت کا تو یہ حال تھا کہ جنگ بدر میں صحابہؓ کے پاس صرف تین تلواریں تھیں اور وہ بھی لکڑی کی بنی ہوئی تھیں۔قوم کو چاہیے کہ جہاں تک ہو سکے تقویٰ اور طہارت کو اختیار کرے اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرے تب ہی کچھ بن سکے گا۔۱ ۱بدر جلد ۲ نمبر ۳۷ مورخہ ۱۳؍ ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۴ نیز الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۲ مورخہ ۱۷؍ستمبر ۱۹۰۶ءصفحہ ۴