ملفوظات (جلد 8) — Page 295
فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے ہم کو سورۂ فاتحہ میں یہ دعا سکھائی کہ اے خدا نہ تو ہمیں مغضوب علیہم میں سے بنائیو اور نہ ضالّین میں سے۔اب سوچنے کا مقام ہے کہ ان ہر دو کا مرجع حضرت عیسیٰ ہی ہیں۔مغضوب علیہ وہ قوم ہے جس نے حضرت عیسیٰ کے ساتھ عداوت کرنے اور ان کو ہر طرح سے دکھ دینے میں غُلو کیا اور ضالّین وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کے ساتھ محبت کرنے میں غُلو کیا اور خدائی صفات ان کو دے دیئے۔صرف ان دونوں کی حالت سے بچنے کے واسطے ہم کو دعا سکھلائی گئی ہے۔اگر دجّال ان کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو یہ دعا اس طرح سے ہوتی کہ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الدَّجَّالِ۔یہ ایک پیشگوئی ہے جو کہ اس زمانہ کے ہر دو قسم کے شر سے آگاہ کرنے کے واسطے مسلمانوں کو پہلے سے خبردار کرتی ہے۔یہ عیسائیوں کے مشن ہی ہیں جوکہ اس زمانہ میں ناخنوں تک زور لگا رہے ہیں کہ اسلام کو سطح دنیا سے نابود کر دیں۔اسلام کے واسطے یہ سخت مضر ہو رہے ہیں اور باوجود ایسے سخت صدمات کے دیکھنے کے پھر خیالی اور وہمی باتوں کے پیچھے پڑنا اور دجال کو کسی اور جگہ تلاش کرنا غلطی میں داخل ہے۔ہمارے سامنے تو ایک ایسا خطرناک دجال موجود ہے کہ اس کی نظیر پہلی امتوں میں موجود نہیں۔کوئی انسانی طاقت اور ہاتھ اس کو زیر نہیں کر سکتا۔ہاں خدا کے ہاتھوں سے یہ کام ہوگا۔یہ کام جو ہمارے در پیش ہے اور جس کا ہم نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم کسر صلیب کے واسطے آئے ہیں یہ ہمارے واسطے کوئی تھوڑا سا غم نہیں۔کیونکہ ہمارا اصل کام پورا نہ ہو تو پھر معجزات اور کرامات بھی کچھ شے نہیں۔ایک طبیب اگر بیمار کا علاج نہیں کر سکتا اور بازی اچھی لگا لیتا ہے تو یہ امر اس کی طبابت کے دعویٰ کو مفید نہیں ہوسکتا۔پس ہم کو بڑا غم جو دامنگیر ہے وہ یہی ہے کہ کسرِ صلیب کا کام پورا ہوجائے۔دوسرا پہلو غم کا اندرونی ، قوم کے متعلق ہے جو سیدھی بات کو الٹا سمجھتے ہیں اور دوست کو دشمن خیال کرتے ہیں۔افسوس تو یہ ہے کہ ہماری دشمنی کی خاطر آنحضرت کے ساتھ بھی دشمنی کرتے ہیں اور جو بات آنحضرت کے حق میں تائیدی ثبوت ہو وہ اگر ہم میں پایا جاوے تو اس ثبوت سے بھی انکار کر جاتے ہیں۔مثلاً قرآن شریف کی یہ آیت کہ اگر رسول خدا تعالیٰ پر اپنی طرف سے کوئی بات بناتا تو