ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 268

ضعیف اور کمزور ہیں اس واسطے اس نے ہمارا سب کام اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔اسلام کے واسطے اب یہی ایک راہ ہے جس کو خشک مُلّا اور خشک فلسفی نہیں سمجھ سکتا۔اگر ہمارے واسطے لڑائی کی راہ کھلی ہوتی تو اس کے لیے تمام سامان بھی مہیا ہوجاتے۔جب ہماری دعائیں ایک نقطہ پر پہنچ جائیں گی تو جھوٹے خود بخود تباہ ہوجائیں گے۔نادان دشمن جو سیاہ دل ہے وہ کہتا ہے کہ ان کو سوائے سونے اور کھانے کے اور کچھ کام ہی نہیں۔مگر ہمارے نزدیک دعا سے بڑھ کر اور کوئی تیز ہتھیار ہی نہیں۔سعید وہ ہے جو اس بات کو سمجھے کہ خدا تعالیٰ اب دین کو کس راہ سے ترقی دینا چاہتا ہے۔۱ بلاتاریخ۲ کامل تعلیم کے اوصاف ایک فرقہ مذہبی کا ذکر آیا کہ وہ صرف چند باتوںکے ترک پر زور دیتے ہیں اور بس۔فرمایا۔یہ تعلیم ناقص ہے۔صرف ترک سے وصول نہیں ہوتا کیونکہ ترک مستلزم وصول نہیں۔اس کی مثال اس طرح سے ہے کہ ایک شخص نے لاہور جانا ہے اور گورداسپور نہیں جانا۔صرف اتنے سے کہ وہ گورداسپور نہیں گیا یہ امر حاصل نہیں ہو سکتا کہ وہ لاہور پہنچ گیا ہے۔ترک معاصی اَور شے ہے اور نیکیوں کا حصول اور قربِ الٰہی دوسری شے ہے۔عیسائیوں نے بھی اس معاملہ میں بڑا دھوکا کھایا ہے اور اسی واسطے انہوں نے کفارہ کا غلط مسئلہ ایجاد کیا ہے کہ یسوع کے پھانسی ملنے سے ہمارے گناہ دور ہوگئے۔اوّل تو یہ بات ہی غلط ہے کہ ایک شخص کا پھانسی ملنا سب کے گناہ دور کر دے۔دوم اگر گناہ دوربھی ہو جاویں تو صرف گناہ کا موجود نہ ہونا کوئی خوبی کی بات نہیں ہے۔بہت کیڑے مکوڑے اور بھیڑ بکریاں دنیا میں موجود ہیں جن کے ذمہ کوئی گناہ نہیں لیکن وہ خدا تعالیٰ کے ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۲۵ مورخہ ۲۱؍جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۴ ۲ان ملفوظات پر کوئی تاریخ تو درج نہیں۔اندازاً جون ۱۹۰۶ء کے آخری ہفتہ یا جولائی ۱۹۰۶ء کے پہلے عشرہ کے معلوم ہوتے ہیں۔واللہ اعلم بالصواب۔(مرتّب)