ملفوظات (جلد 8) — Page 267
پر کیا جاتا ہے جو رات دن یورپ سلطنت سے خوفزدہ رہتا ہے اور بمشکل اپنی زندگی کے دن کاٹ رہا ہے وہ کون سی خوش قسمتی کی بات ہے جو اس وقت مسلمانوں کے درمیان پائی جاتی ہے ہر پہلو سے ان کے حالات پر رونا آتا ہے۔ایک اہلِ رائے ان کے حال سے بالکل ناامیدی ظاہر کرتا ہے۔ہمارا ہتھیار دعا ہے دشمن بد اندیش صرف عداوت کے سبب ہماری ہر بات اور ہر فعل پر اعتراض کرتا ہے کیونکہ اس کا دل خراب ہے اور جب کسی کا دل خراب ہوتا ہے تو پھر چاروں طرف اندھیرا ہی نظر آتا ہے۔یہ نادان کہتے ہیں کہ وہ اپنی جگہ پر بیٹھے ہیں اور کچھ کام نہیں کرتے۔مگر وہ خیال نہیں کرتے کہ مسیح موعود کے متعلق کہیں یہ نہیں لکھا کہ وہ تلوار پکڑے گا اور نہ یہ لکھا ہے کہ وہ جنگ کرے گا بلکہ یہی لکھا ہے کہ مسیح کے دم سے کافر مریں گے یعنی وہ اپنی دعا کے ذریعہ سے تمام کام کرے گا۔اگر میں جانتا کہ میرے باہر نکلنے سے اور شہروں میں پھرنے سے کچھ فائدہ ہو سکتا ہے تو میں ایک سیکنڈ بھی یہاں نہ بیٹھتا مگر میں جانتا ہوں کہ پھرنے میں سوائے پاؤں گھسانے کے اور کوئی فائدہ نہیں ہے۔اور یہ سب مقاصد جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں صرف دعا کے ذریعہ سے حاصل ہو سکیں گے۔دعا میں بڑی قوتیں ہیں۔کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک بادشاہ ایک ملک پر چڑھائی کرنے کے واسطے نکلا۔راستہ میں ایک فقیر نے اس کے گھوڑے کی باگ پکڑی اور کہا کہ تم آگے مت بڑھو ورنہ میں تمہارے ساتھ لڑائی کروں گا۔بادشاہ حیران ہوا اور اس سے پوچھا کہ تو ایک بے سروسامان فقیر ہے تو کس طرح میرے ساتھ لڑائی کرے گا؟ فقیر نے جواب دیا کہ میں صبح کی دعاؤں کے ہتھیار سے تمہارے مقابلہ میں جنگ کروں گا۔بادشاہ نے کہا کہ میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔یہ کہہ کر وہ واپس چلا گیا۔غرض دعا میں خدا تعالیٰ نے بڑی قوتیں رکھی ہیں۔خدا نے مجھے بار بار بذریعہ الہامات کےیہی فرمایا ہے کہ جو کچھ ہوگا دعا ہی کے ذریعہ سے ہوگا۔ہمارا ہتھیار تو دعا ہی ہے اور اس کے سوائے اور کوئی ہتھیار میرے پاس نہیں۔جو کچھ ہم پوشیدہ مانگتے ہیں خدا اس کو ظاہر کر کے دکھا دیتا ہے۔گذشتہ انبیاء کے زمانہ میں بعض مخالفین کو نبیوں کے ذریعہ سے بھی سزا دی جاتی تھی مگر خدا جانتا ہے کہ ہم