ملفوظات (جلد 8) — Page 266
اوّل اس میں ایک بصیرت ہو جس سے وہ علمی مسائل کو ایسے رنگ میں پیش کرے جس سے سننے والوں کو ایک لذت حاصل ہو۔کیونکہ نامعقول بات سے انسان کے دل میں ایک خلش رہتی ہے اور معقول بات خواہ مخواہ پسندیدہ ہوتی ہے اور اس میں ایک لذت ہوتی ہے جیسا کہ شربت میں طبعاً ایک لذت محسوس ہوتی ہے۔دوم یہ کہ اس میں ایک عملی طاقت ہو۔خود عالم با عمل ہو۔صدق، وفا اور شجاعت اس میں پائی جاتی ہو کیونکہ جو شخص خود عمل کرنے والا نہیں اس کا اثر دوسروں پر ہرگز نہیں ہو سکتا۔سوم یہ کہ اس میں کشش ہو۔کوئی نبی نہیں جس میں قوت جاذبہ نہ ہو۔ہر ایک مامور کو ایک قوت جاذبہ عطا کی جاتی ہے کہ وہ اپنی جگہ بیٹھا ہوا دوسروں کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور لوگ اس کی طرف کھینچے ہوئے چلے آتے ہیں۔چہارم یہ کہ وہ خوارق اور کرامات دکھائے اور نشانات کے ذریعہ سے لوگوں کے ایمان کو پختہ کرے۔ان وعظ کرنے والے لوگوں میں ان باتوں میں سے کوئی ایک بات بھی نہیں پائی جاتی۔ضرورتِ امام نادان لوگ کہتے ہیں کہ امام کی ضرورت کیا ہے؟ سب لوگ نماز حج وغیرہ فرائض اپنی اپنی جگہ ادا کر رہے ہیں۔مگر یہ لوگ جھوٹھ کہتے ہیں۔فی زمانہ ان کے درمیان نہ اندرونی خوبیاں اور نہ بیرونی۔اللہ تعالیٰ نے جو اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ(الفاتـحۃ:۷) میں ایسے لوگوں کا ذکر کیا وہ انعامات ان کے درمیان کہاں پائے جاتے ہیں۔یہ لوگ تو خود ہی تاریکی میں پڑے ہوئے ہیں۔اخلاق خراب ہیں۔اعمال خراب ہیں۔ایمان نہیں۔دین صرف ایک رسم رہ گیا ہے جس میں خالی استخوان ہے اور مغز نہیں۔بیرونی حملوں کا یہ حال ہے کہ کوئی خاندان ایسا نہیں جس میں کوئی نہ کوئی مرتد نہ ہوگیا ہو۔وہ جو مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوئے تھے اور جن کے کانوں میں لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ کا کلمہ پڑھا گیا تھا اب گرجوں میں بیٹھ کر ایک خدا کے ساتھ دوسرے اور تیسرے خدا بناتے ہیں۔اور مُردوں کی پرستش کرتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ( نعوذ باللہ) گالیاں دیتے ہیں۔اسلامی سلطنتوں کا یہ حال ہے کہ سب سے زیادہ فخر سلطانِ روم