ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 265 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 265

اور نیز بدوں کے لئے خدا کا نشان ہوگا۔یہ اسی قسم کا نشان ہے جیسا کہ عزریا نبی نے حزقیاہ بادشاہ کے لئے فرمایا تھا۔اور خدا تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ عنقریب دو نشان ظاہر ہوں گے۔پس اگر دو نشان ظاہر ہونے والے جو عنقریب ہیں وہ اور ہیں تو اس صورت میں بھی اب کی دفعہ ان کے گھر میں لڑکی پیدا ہوگی۔نہیں تو اب کی دفعہ ہی لڑکا پیدا ہوگا اور وہ خدا کا نشان ہوگا۔اور اس کے ساتھ ایک دوسرا نشان ظاہر ہوگا۔اور وہ لڑکا نیکوںکے لئے اور اس سلسلہ کے لئے ایک سعد ستارہ کی طرح مگر بدوں کے لئے اس کے برخلاف ہوگا۔۱ بلاتاریخ۲ حقیقی مصلح اور واعظین میں فرق آج کل کے ایک مشہور لیڈر قوم کا ذکر تھا کہ وہ کہتا ہے کہ ان دنوں مسلمان وعظ کی مجلس میں نہیں آتے لیکن اگر رنڈیوں کا راگ ناچ ہو تو وہاں خوب جمع ہوجاتے ہیں۔حضرت نے فرمایا۔یہ بات درست ہے لیکن اس کا اصل باعث واعظین کی حالتیں ہے۔آجکل کے وعظ کرنے والے ہی ایسے ہیں کہ وہ خود پرلے درجہ کے دنیادار اور بے عمل اور بد کار ہیں۔اور ان کے وعظ میں نہ کوئی تاثیر ہے اور نہ کوئی لذت ہے اور نہ کوئی کشش ہے۔برخلاف اس کے رنڈیوں کے راگ میں خراب کاروں کے واسطے ایک لذت ہے گو وہ ظاہری ہے اور بدی کی طرف ہے۔مگر لوگ ایک ظاہری لذت کی طرف کھینچے چلے جاتے ہیں۔اگر واعظین کے وعظ میں کشش اور لذت ہوتی تو وہ سب کو کھینچ کر اپنی طرف لے آتے۔ہر ایک مصلح، ریفارمر، ولی، نبی میں چار باتوں کا ہونا ضروری ہے۔۱الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۰ مورخہ ۱۰؍جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ ۲ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ان ملفوظات پر کوئی تاریخ درج نہیں۔لیکن اندازہ ہے یہ ارشادات جون ۱۹۰۶ء کے پہلے تین ہفتوں کی کسی تاریخ کے ہیں۔واللہ اعلم بالصواب۔(مرتّب)