ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 262

کر دیا تاکہ آنحضرتؐکے قول کو پورا کر دے۔جیسا کہ ایک دفعہ نبی کریمؐنے ایک صحابی سے فرمایا کہ تیرا اس وقت کیا حال ہوگا جبکہ تیرے ہاتھ میں کسریٰ کے سونے کے کڑے پہنائے جائیں گے۔آنحضرت کی وفات کے بعد جب کسریٰ کا ملک فتح ہوا۔تو حضرت عمرؓ نے اس کو سونے کے کڑے جو لوٹ میں آئے تھے پہنائے۔حالانکہ سونے کے کڑے یا کوئی اور چیز سونے کی مَردوں کے لیے ایسی ہی حرام ہے جیسا کہ اور حرام چیزیں۔لیکن چونکہ نبی کریمؐکے منہ سے یہ بات نکلی تھی اس لیے پوری کی گئی۔اسی طرح ہر ایک دوسرے انسان کو بھی آنحضرتؐکے قول کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔دو زرد چادروں سے مراد فرمایا کہ دیکھو! میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرتؐنے پیشگوئی کی تھی جو اسی طرح وقوع میں آئی۔آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔یعنی مراق اور کثرت بول۔ہمارے مخالف مولوی اس کے معنے یہ کرتے ہیں کہ وہ سچ مچ جوگیوں کی طرح دو چادریں اوڑھے ہوئے آسمان سے نیچے اتریں گے۔لیکن یہ غلط ہے۔کیونکہ معبّروں نے ہمیشہ زرد چادر کے معنے بیماری کے ہی لکھے ہیں۔ہر ایک شخص جو زرد چادر دیکھے یا کوئی اور زرد چیز تو اس کے معنے بیماری کے ہی ہوں گے اور ہر ایک شخص جو ایسا دیکھے آزما سکتا ہے کہ اس کے معنے یہی ہیں۔صلح پسندی کے ساتھ مذہب کی غیرت ضروری ہے دو عورتوںکے جھگڑے پر فرمایا کہ قرآن شریف میں آیا ہے وَالصُّلْحُ خَيْرٌ(النسآء:۱۲۹) اس لیے اگر آپس میں کوئی لڑائی جھگڑا ہو جائے تو صلح کر لینی چاہیے کیونکہ اس میں خیر اور برکت ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ غیر مذاہب کے ساتھ بھی یہ بات رکھی جائے بلکہ ان کے ساتھ سخت مذہبی عداوت رکھنا چاہیے۔جب تک مذہب کی غیرت نہ ہو انسان کا مذہب ٹھیک نہیں ہوتا۔اب یہ جو ہندو عیسائی ہمارے آنحضرتؐکو گالیاں نکالتے ہیں تو کیا ہم ان کے ساتھ صلح رکھ سکتے ہیں بلکہ ان کی محفلوں میں بیٹھنا اور ان کے ساتھ دوستی کرنا اور