ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 263 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 263

ان کے گھروں میں جانا تو معصیت میں داخل ہے۔جھگڑوںکی بنیاد بد ظنی ہوتی ہے ہاں آپس میں جو ایک فرقہ میں ہوں تو لڑائی جھگڑا کی زیادہ تر بنیاد بد ظنی ہوتی ہے۔حدیث میں ہے کہ دوزخ میں دو تہائی آدمی بد ظنی کی وجہ سے داخل ہوں گے۔خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ قیامت کے دن میں لوگوں سے پوچھوں گا کہ اگر تم مجھ پر بد ظنی نہ کرتے تو یہ کیوں ہوتا۔حقیقت میں اگر لوگ خدا پر بدظنی نہ کرتے تو اس کے احکام پر کیوں نہ چلتے۔انہوں نے خدا پر بد ظنی کی اور کفر اختیار کیا اور بعض تو خدا کے وجود تک کے منکر ہوگئے۔تمام فسادوں اور لڑائیوں کی وجہ یہی بدظنی ہے۔پیشگوئیوں کے مطابق زلزلوںکا وقوع زلزلہ کی نسبت باتوں میں فرمایا کہ قرآن شریف میں زلزلہ آنے کی خبر دی گئی ہے کہ مسیح کے وقت ایسے زلزلے آئیں گے کہ شدت میں نہایت ہی سخت ہوں گے۔اب تک ان مولویوں نے یہ سب باتیں قیامت پر اٹھا چھوڑی تھیں مگر یہ جو پیشگوئی ہے کہ حمل دار عورتوں کے حمل گر جائیں گے تو قیامت کے دن عورتوں کو حمل بھی ہوں گے؟ یہ بات کچھ بھوپال کے نواب صدیق حسن خان نے سمجھی ہے لیکن افسوس کہ اب تک کوئی مولوی نہیں سمجھا کہ قیامت کو عورتوں کے حمل کہاں ہوں گے۔کئی مسائل ہیں کہ جن کا ظاہر ہونا مسیح کے وقت میں بیان کیا گیا تھا یہاں تک کہ آنحضرتؐنے فرمایا کہ ایک شخص کھڑا ہوگا اور کہے گا کہ یہ کون شخص ہے کہ ہمارے مذہب کے برخلاف باتیں بناتا ہے جو آج تک نہیں سنیں۔جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ ان نشانوں میں سے ایک زلزلہ بھی ہے کہ علماء اس کو قیامت کے وقت قرار دیتے ہیں۔اب دیکھو کہ یہ دونوں زلزلے جو آئے ہیں کیا ایسے کبھی پہلے بھی دیکھے یا سنے تھے؟ جو اصل میں قرآن شریف کی اسی پیشگوئی کے مطابق آئے۔۱ ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخہ ۷؍جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۴،۵