ملفوظات (جلد 8) — Page 236
حالت پر جو اس قسم کے سوال کرتے ہیں۔خدا کو کسی کی کیا پروا ہے۔کیا یہ لوگ خدا پر اپنے ایمان لانے کا احسان رکھتے ہیں؟ جو شخص سچائی پر ایمان لاتا ہے وہ خود گناہوں سے پاک ہونے کا ایک ذریعہ تلاش کرنے والا ہے۔ورنہ خدا کو اس کی کیا حاجت ہے؟ خدا فرماتا ہے کہ اگر تم سب کے سب مرتد ہو جاؤ تو وہ ایک اور نئی قوم پیدا کرے گا جو اس سے پیار کرے گی۔جو شخص گناہ کرتا اور کافر بنتا ہے وہ خدا کا کچھ نقصان نہیں کرتا اور جو ایمان لاتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا کچھ بڑھا نہیں دیتا۔ہر ایک شخص اپنا ہی فائدہ یا نقصان کرتا ہے۔جو لوگ خدا پر احسان رکھ کر اور شرطیں لگا کر ایمان لانا چاہتے ہیں۔ان کی وہ حالت ہےکہ ایک شخص جو سخت پیاس میں مبتلا ہے پانی کے چشمہ پر جاتا ہے مگر وہ کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ اے چشمہ! میں تیرا پانی تب پیوں گا جبکہ تو مجھے ایک ہزار روپیہ نکال کر دیوے۔بتاؤ اس کو چشمہ سے کیا جواب ملے گا؟ یہی کہ جا پیاس سے مر۔مجھے تیری حاجت نہیں۔خدا تعالیٰ غنی بے نیاز ہے۔۱ ۱۹؍فروری ۱۹۰۶ء عملی کمزوریاں خدا تعالیٰ کے فضل سے دور ہوجاتی ہیں ایک دوست نے جو باہر سے تشریف لائے تھے اس جگہ کی جماعت احمدیہ کے ایک شخص کی کسی عملی کمزوری کی شکایت کی۔فرمایا۔جیسے جیسے جماعت بڑھتی جاتی ہے اس قسم کے مشکلات بھی پیدا ہوتے جاتے ہیں۔کیونکہ ہر قسم کے لوگ داخل ہوجاتے ہیں۔خدا تعالیٰ چاہے تو رفتہ رفتہ ان کی کمزوریاں بھی دور ہو جاتی ہیں۔۲ ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخہ ۲۳؍ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ ۲ بدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخہ ۲۳؍ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲