ملفوظات (جلد 8) — Page 235
میّت کے نام پر قبرستان میں کھانا تقسیم کرنا ایک شخص نے سوال کیا کہ میّت کے ساتھ جو لوگ روٹیاں پکا کر یا اور کوئی شے لے کر باہر قبرستان میں لے جاتے ہیں اور میّت کو دفن کرنے کے بعد مساکین میں تقسیم کرتے ہیں۔اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ فرمایا۔سب باتیں نیت پر موقوف ہیں۔اگر یہ نیت ہو کہ اس جگہ مساکین جمع ہو جایا کرتے ہیں اور مردے کو صدقہ پہنچ سکتا ہے۔ادھر وہ دفن ہو ادھر مساکین کو صدقہ دے دیا جاوے تاکہ اس کے حق میں مفید ہو اور وہ بخشا جاوے تو یہ ایک عمدہ بات ہے۔لیکن اگر صرف رسم کے طور پر یہ کام کیا جاوے تو جائز نہیں ہے۔کیونکہ اس کا ثواب نہ مردے کے لیے اور نہ دینے والوں کے واسطے اس میں کچھ فائدے کی بات ہے۔میّت کے لئے اسقاط ایک شخص نے سوال کیا کہ کسی شخص کے مرجانے پر جو اسقاط کرتےہیں اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ فرمایا۔یہ بالکل بدعت ہے اور ہرگز اس کے واسطے کوئی ثبوت سنت اور حدیث سے ظاہر نہیں ہو سکتا۔۱ ۱۸؍فروری ۱۹۰۶ء خدا تعالیٰ ظالم نہیں فرمایا۔خدا تعالیٰ ظالم نہیں اور نہ انسان کی طرح چڑ چڑا ہے۔جب کسی کو عذاب ملتا ہے تو وہ دراصل اس انسان کے اپنے ہی اعمال کی ایک حالت ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ کو آزمانا نہیں چاہیے ایک شخص نے عرض کی میرے باپ کی دوکان خراب حالت میں ہوگئی ہے اگر وہ درست ہوجاوے تو میں مرزا صاحب کو مان لوں گا۔فرمایا۔خدا تعالیٰ کو ان باتوں کے ساتھ آزمانا نہیں چاہیے۔میں تعجب کرتا ہوں ان لوگوں کی ۱ بدر جلد ۲ نمبر ۷ مورخہ ۱۶؍فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲