ملفوظات (جلد 8) — Page 224
ایسے وقت جبکہ بالکل تاریکی چھائی ہوئی تھی۔جیسا کہ فرمایا اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ (القدر:۲) ایک لیلۃ القدر تو وہ ہے جو پچھلے حصہ رات میں ہوتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ تجلی فرماتا ہے اور ہاتھ پھیلاتا ہے کہ کوئی دعا کرنے والا اور استغفار کرنے والا ہے جو میں اس کو قبول کروں لیکن ایک معنے اس کے اور ہیں جس سے بد قسمتی سے علماء مخالف اور منکر ہیں۔اور وہ یہ ہیں کہ ہم نے قرآن کو ایسی رات میں اتارا ہے کہ تاریک و تار تھی اور وہ ایک مستعد مصلح کی خواہاں تھی۔خدا تعالیٰ نے انسان کو عبادت کے لیے پیدا کیا ہے جبکہ اس نے فرمایا مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ(الذاریٰت:۵۷) پھر جب انسان کو عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ تاریکی ہی میں پڑا رہے۔ایسے زمانے میں بالطبع اس کی ذات جوش مارتی ہے کہ کوئی مصلح پیدا ہو۔پس اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ اس زمانہ ضرورت بعثت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور دلیل ہے اور انجام اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ میں فرما دیا۔گویا یہ باب نبوت کی دوسری فصل ہے۔اکمال سے یہی مطلب نہیں کہ سورتیں اتار دیں بلکہ تکمیل نفس اور تطہیر قلب کی۔وحشیوں سے انسان پھر اس کے بعد عقلمند اور بااخلاق انسان اور پھر با خدا انسان بنا دیا اور تطہیرِ نفس، تکمیل اور تہذیب نفس کے مدارج طے کرا دیئے۔اور اسی طرح پر کتاب اللہ کو بھی پورا اور کامل کر دیا۔یہاں تک کہ کوئی سچائی اور صداقت نہیں جو قرآن شریف میں نہ ہو۔میں نے اگنی ہوتری کو بارہا کہا کہ کوئی ایسی سچائی بتاؤ جو قرآن شریف میں نہ ہو مگر وہ نہ بتا سکا۔ایسا ہی ایک زمانہ مجھ پر گذرا ہے کہ میں نے بائبل کو سامنے رکھ کر دیکھا۔جن باتوں پر عیسائی ناز کرتے ہیں وہ تمام سچائیاں مستقل طور پر اور نہایت ہی اکمل طور پر قرآن مجید میں موجود ہیں۔مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں کو اس طرف توجہ نہیں۔وہ قرآن شریف پر تدبّر ہی نہیں کرتے اور نہ ان کے دل میں کچھ عظمت ہے۔ورنہ یہ تو ایسا فخر کا مقام ہے کہ اس کی نظیر دوسروں میں ہے ہی نہیں۔تکمیل دین کا مبارک دن غرض اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ (المائدۃ: ۴) کی آیت دو پہلو رکھتی ہے۔ایک یہ کہ تمہاری تطہیر کرچکا۔دوئم کتاب مکمل کرچکا۔کہتے ہیں جب یہ آیت اتری وہ جمعہ کا دن تھا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کسی یہودی نے کہا کہ اس