ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 225 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 225

آیت کے نزول کے دن عید کر لیتے۔حضرت عمر نے کہا کہ جمعہ عید ہی ہے۔مگر بہت سے لوگ اس عید سے بے خبر ہیں۔دوسری عیدوں کو کپڑے بدلتے ہیں۔لیکن اس عید کی پروا نہیں کرتے اور میلے کچیلے کپڑوں کے ساتھ آتے ہیں۔میرے نزدیک یہ عید دوسری عیدوں سے افضل ہے۔اسی عید کے لیے سورہ جمعہ ہے اور اسی کے لیے قصر نماز ہے۔اور جمعہ وہ ہے جس میں عصر کے وقت آدم پیدا ہوئے۔اور یہ عید اس زمانہ پر بھی دلالت کرتی ہے کہ پہلا انسان اس عید کو پیدا ہوا۔قرآن شریف کا خاتمہ اس پر ہوا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی فراست کہتے ہیں جب یہ آیت اتری تو ابوبکررضی اللہ عنہ رو پڑے۔کسی نے کہا اے بڈھے! کیوں روتا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ اس آیت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی بو آتی ہے۔کیونکہ یہ مقرر شدہ بات ہے کہ جب کام ہوچکتا ہے تو اس کا پورا ہونا ہی وفات پر دلالت کرتا ہے۔جیسے دنیا میں بندو بست ہوتےہیں اور جب وہ ختم ہوجاتا ہے تو عملہ وہاں سے رخصت ہوتا ہے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر والا قصہ سنا تو فرمایا سب سے زیادہ سمجھ دار ابوبکر ہے اور یہ فرمایا کہ اگر دنیا میں کسی کو دوست رکھتا تو ابوبکر کو رکھتا اور فرمایا ابوبکر کی کھڑکی مسجد میں کھلی رہے باقی سب بند کر دو۔کوئی پوچھے کہ اس میں مناسبت کیا ہوئی؟ تو یاد رکھو کہ مسجد خانہ خدا ہے جو سر چشمہ ہے تمام حقائق معارف کا۔اس لیے فرمایا کہ ابو بکر کی اندرونی کھڑکی اس طرف ہے تو اس کے لیے یہ بھی کھڑکی رکھی جاوے۔یہ بات نہیں کہ اور صحابہ محروم تھے۔نہیں بلکہ ابوبکر کی فضیلت وہ ذاتی فراست تھی جس نے ابتدا میں بھی اپنا نمونہ دکھایا اور انتہا میں بھی۔گویا حضرت ابوبکر کا وجود مجموعۃالفراستین تھا۔تم اس وصیت کی تکمیل میں میرا ہاتھ بٹاؤ اب میں پھر یہ ذکر کر کے اس کو ختم کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نےجہاں میری وفات کی خبر دی ہے یہ بھی فرمایا ہے لَا نُبْقِیْ لَکَ مِنَ الْمُخْزِیَاتِ ذِکْرًا۔جو مامور ہو کر آتا ہے بڑا