ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 208 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 208

انسان کی عادت ہے کہ جس کام پر اس کی آنکھ کھل جاوے اور کسی امر کو یہ اپنے لیے مفید سمجھ لے وہی کرتا ہے۔ایک تاجر کو معلوم ہو جاوے کہ فلاں ملک میں اگر اس کا مال جاوے تو اسے اس قدر فائدہ ہوگا تو ضرور اپنا مال وہیں لے جائے گا۔ایسا ہی ایک زمیندار اور دوسرے اہل حرفہ کرتے ہیں۔اسی طرح پر اگر انسان کی آنکھ کھل جاوے اور عاقبت کا فکر اسے دامنگیر ہو اور وہ ایک یقین اپنے اندر پیدا کرلے کہ خدا تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہونا ہے تو اس کی اصلاح ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ظاہر فرمایا ہے کہ اگر مجھ پر نیک ظن ہوتا تو مشکل کیا تھا؟ کیا پانچ وقت نماز پڑھنا مشکل تھا؟ ہرگز نہیں۔خدا تعالیٰ کا خوف جب غالب ہو تو آدمی کیسا ہی مصروف ہو اسے چھوڑ کر بھی ادا کر سکتا ہے۔اس وقت ہم سب یہاں بیٹھے ہیں اور ایک کام میں مصروف ہیں۔لیکن اگر خدانخواستہ اس وقت زلزلہ آجاوے تو کیا ہم میں سے کوئی یہاں رہ سکتا ہے؟ سب کے سب بھاگ جاویں یہاں تک کہ مریض اور ضعیف بھی دوڑ پڑیں۔اصل بات یہ ہے کہ خوف کے ساتھ ایک قوت آتی ہے۔اگر خدا تعالیٰ پر بدظنی نہ ہوتی تو طاقت آجاتی اور اس کے احکام کی تعمیل کے لیے ایک جوش اور اضطراب پیدا ہوجاتا۔غرض بد ظنی تمام بُرائیوں کی جڑ ہے۔جو نیک ظنی سے خدا تعالیٰ کی کتاب پر ایمان لاویں تو سب کچھ ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان ہو تو پھر کیا ہے جو نہیں ہوسکتا۔بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ فلاں گناہ کیونکر چھوٹ سکتا ہے۔یہ باتیں اسی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں پر کامل ایمان نہیں ہوتا۔چونکہ اس کوچہ سے نامحرم ہوتے ہیں اس لیے ایسے اوہام طبیعت میں پیدا ہوتے ہیں۔مگر میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ وہ خدا جس نے نطفہ سے انسان کو بنا دیا ہے وہ اس انسان کو ہر قسم کے پاک تغیرات کی توفیق عطا کر سکتا ہے اور کرتا ہے۔ہاں ضرورت ہے طلبگار دل کی۔زنجبیلی مقام میں پھر اصل مطلب کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ انسان کا اتنا ہی کمال نہیں ہے کہ بدیاں چھوڑ دے۔کیونکہ اس میں اور بھی شریک ہیں یہاں تک کہ حیوانات