ملفوظات (جلد 8) — Page 209
بھی بعض امور میں شریک ہو سکتے ہیں۔بلکہ انسان کامل نیک تب ہی ہوتا ہے کہ نہ صرف بدیوں کو ترک کرے بلکہ اس کے ساتھ نیکیوں کو بھی کامل درجہ تک پہنچاوے۔پس جب ترک شرّ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کافوری شربت پلاتا ہے۔جس سے یہ مراد ہے کہ وہ جوش اور تحریکیں جو بدی کے لیے پیدا ہوتی تھیں سرد ہوجاتی ہیں اور بدی کے مواد دب جاتے ہیں۔اس کے بعد اس کو دوسرا شربت پلایا جاتا ہے جو قرآن کریم کی اصطلاح میں شربت زنجبیلی ہے جیسا کہ فرمایا يُسْقَوْنَ فِيْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًا(الدّھر:۱۸) زنجبیل مرکب ہے زنا اور جبل سے زنا الـجبل کے یہ معنے ہیں کہ ایسی حرارت اور گرمی پیدا ہوجاوے کہ پہاڑ پر چڑھ جاوے۔زنجبیل میں حرارت غریزی رکھی گئی ہے اور اس کے ساتھ انسان کی حرارت غریزی کو فائدہ پہنچتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بڑے بڑے کام جو میری راہ میں کئے جاتے ہیں جیسے صحابہؓ نے کئے یہاں تک کہ انہوں نے اپنی جانوں سے دریغ نہیں کیا۔خدا کی راہ میں سر کٹوا دینا آسان امر نہیں ہے۔جس کے بچے چھوٹے چھوٹے اور بیوی جوان ہو۔جب تک کوئی خاص گرمی اس کی روح میں پیدا نہ ہو۔کیونکر انہیں یتیم اور بیوہ چھوڑ کر سر کٹوا لے۔میں صحابہؓ سے بڑھ کر کوئی نمونہ پیش نہیں کر سکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ اعلیٰ درجہ کی قوتِ قدسی اور تزکیہ نفس کی طاقت کا ہے اور صحابہؓ کا نمونہ اعلیٰ درجہ کی تبدیلی اور فرمانبرداری کا ہے۔پس ایسی طاقت اور یہ قوت ایسی زنجبیلی شربت کی تاثیر سے پیدا ہوتی ہے اور حقیقت میں کافوری شربت کے بعد طاقت کو نشو و نما دینے کے لیے اس زنجبیلی شربت کی ضرورت بھی تھی۔اولیاء اور ابدال جو خدا تعالیٰ کی راہ میں سر گرمی اور جوش دکھاتے ہیں اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ زنجبیلی جام پیتے رہتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دعویٰ کیا تو غور کرو کس قدر مخالفت کا بازار گرم تھا۔ایک طرف مشرک تھے دوسری طرف عیسائی بے حد جوش دکھا رہے تھے جنہوں نے ایک عاجز انسان کو خدا بنا رکھا تھا اور ایک طرف یہودی سیاہ دل تھے یہ بھی اندر ہی اندر ریشہ دوانیاں کرتے اور مخالفوں کو اکساتے اور ابھارتے تھے۔غرض جس طرف دیکھو مخالف ہی مخالف نظر آتے تھے۔قوم دشمن،