ملفوظات (جلد 8) — Page 207
اب غور کرو کہ جس قادر خدا نے انسان کو ایسے ایسے انقلابات میں سے گذار کر انسان بنا دیا ہے اور اب ایسا انسان ہے کہ گویا عقل حیران ہے کہ کیا سے کیا بن گیا۔ناک منہ اور دوسرے اعضاء پر غور کرو کہ خدا تعالیٰ نے اسے کیا بنایا ہے۔پھر اندرونی حواس خمسہ دیئے اور دوسرے قویٰ اور طاقتیں اس کو عطا کیں۔پس جس خدائے قادر نے اس زمانہ سے جو یہ نطفہ تھا عجیب تصرفات سے انسان بنا دیا کیا اس کے لئے مشکل ہے کہ اس کو پاک حالت میں لے جاوے اور جذبات سے الگ کر دے؟ جو شخص ان باتوں پر غور کرے گا وہ بے اختیار ہو کر کہہ اٹھے گا اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ(البقرۃ:۲۱) اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ جب گنہگار لوگ جہنم میں ڈالے جاویں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہارا ایک ہی گناہ بہت بڑا ہے کہ تم نے خدا پہ بد ظنی کی، اگر بدظنی نہ کرتے تو کامل اور مومن بن کر آتے۔حقیقت میں یہ بہت بڑا گناہ ہے جو انسان اللہ تعالیٰ پر بد ظن ہوجاوے۔باقی جس قدر گناہ ہیں وہ اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ کو حقیقی رازق یقین کرے تو پھر چوری، بددیانتی اور فریب سے لوگوں کا مال کیوں مارے؟ افسوس نادان انسان سمجھتا ہے۔اے جہاں مٹھا اگلا کس نے ڈٹھا۔یہ بھی خدا تعالیٰ پر بد ظنی ہے۔اگر اسے صادق یقین کرتے تو یہ نہ کہتے۔بلکہ یہ کہتے کہ ؎ دنیا روزے چند آخر باخداوند دنیا کو چند روزہ یقین کر کے اس کی عمارتوں اور آسائشوں اور ہر قسم کی دولتوں سے دل نہ لگاتے بلکہ ہر وقت موت کے فکر میں لرزاں ترساں رہ کر عاقبت کا خیال کرتے اور اس کا بندوبست کرتے کہ آخر مر کر اللہ تعالیٰ کے حضور جانا ہے۔مگر اب تو یہ حالت ہے کہ عام طور پر ایک غفلت چھائی ہوئی ہے اور لوگ اس طرح پر مصروف اور دلدادہ دنیا ہیں گویا انہوں نے کبھی یہاں سے جانا ہی نہیں اور موت کوئی چیز ہی نہیں یا کم از کم اس کا اثر ان پر کچھ بھی ہونے والا نہیں۔خدا تعالیٰ پر بد ظنی کے نتائج یہ بد خیالی، یہ غفلت اور خود رفتگی کیوں پیدا ہوئی ہے؟ اس کی جڑ بھی وہی خدا پر بد ظنی ہے۔اس کو صادق یقین نہیں کیا۔