ملفوظات (جلد 8) — Page 117
باپ پر اس قدر غم پڑا کہ اگر پہاڑ پر وہ غم پڑتا تو وہ زمین کے برابر ہوجاتا۔ایسی حالت میں حضرت ابو بکرؓ کا مقابلہ ہم کس سے کریں۔اصل مشکلات اور مصائب کا زمانہ وہی تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے انہیں کامیاب کیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے وقت کوئی فتنہ باقی نہ تھا اور حضرت عثمانؓ کو تو میں حضرت سلیمانؑ سے تشبیہ دیتا ہوں ان کو بھی عمارات کا بڑا شوق تھا۔حضرت علیؓ کے وقت میں اندرونی فتنے ضرور تھے۔ایک طرف معاویہ تھے اور دوسری طرف علیؓ۔اور ان فتنوں کے باعث مسلمانوں کے خوب خون بہے۔۶ سال کے اندر اسلام کے لیے کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔اسلام کے لیے تو عثمانؓ تک ہی ساری کارروائیاں ختم ہوگئیں۔پھر تو خانہ جنگی شروع ہوگئی۔حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما حضرت حسنؓ نے میری دانست میں بہت اچھا کام کیا کہ خلافت سے الگ ہوگئے پہلے ہی ہزاروں خون ہوچکے تھے۔انہوںنے پسند نہ کیا کہ اور خون ہوں اس لیے معاویہ سے گذارہ لے لیا۔چونکہ حضرت حسنؓ کے اس فعل سے شیعہ پر زد ہوتی ہے اس لیے امام حسنؓ پر پورے راضی نہیں ہوئے۔ہم تو دونوں کے ثناخواں ہیں۔اصلی بات یہ ہے کہ ہر شخص کے جدا جدا قویٰ معلوم ہوتے ہیں۔حضرت امام حسنؓ نے پسند نہ کیا کہ مسلمانوں میں خانہ جنگی بڑھے اور خون ہوں۔انہوں نے امن پسندی کو مدّ نظر رکھا۔اور حضرت امام حسینؓ نے پسند نہ کیا کہ فاسق فاجر کے ہاتھ پر بیعت کروں کیونکہ اس سے دین میں خرابی ہوتی ہے۔دونوں کی نیت نیک تھی۔اِنَّـمَا الْاَعْـمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔یہ الگ امر ہے کہ یزید کے ہاتھ سے بھی اسلامی ترقی ہوئی یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے وہ چاہے تو فاسق کے ہاتھ سے بھی ترقی ہو جاتی ہے۔یزید کا بیٹا نیک بخت تھا۔ہر شخص اپنے قویٰ کے موافق کام کرتا ہے اصل یہی ہے کہ ہر شخص اپنے قویٰ کے موافق کام کرتا ہے قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ(بنی اسـرآءیل:۸۵) بعض لوگ دنیا داری میں بڑے کامل ہوتے ہیں۔بعض سادہ ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دیکھا کہ لوگ کھجور کو پیوند کر رہے ہیں۔یہ پیوند نر کا مادہ