ملفوظات (جلد 8) — Page 116
ہے جو رگ و ریشہ میں دھنس جاوے۔وہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کا خاصہ اور اسی کے لیے مخصوص ہے۔دوسروں کے ساتھ محض اخوت اور برادری ہے۔خُلّت کا مفہوم ہی یہی ہے کہ وہ اندر دھنس جاوے جیسے یوسف زلیخا کے اندر رچ گیا تھا۔بس یہی معنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پاک فقرہ کے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں تو کوئی شریک نہیں۔دنیا میں اگر کسی کو دوست رکھتا تو ابوبکر کو رکھتا۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر کسی کو بیٹا بناتا تو ایک مقرب کو بنا لیتا۔ایک مفسر کہتا ہے کہ مقرّب سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کو مقام لَدُنّی حاصل ہے۔غرض یہ امور تکمیل کے لیے ضروری ہیں جن کو ہر شخص سمجھ نہیںسکتا۔امت پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا عظیم احسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ہزاروں آدمی مرتد ہوگئے حالانکہ آپ کے زمانہ میں تکمیل شریعت ہوچکی تھی۔یہاں تک اس ارتداد کی نوبت پہنچی کہ صرف دو مسجدیں رہ گئیں جن میں نماز پڑھی جاتی تھی۔باقی کسی مسجد میں نماز ہی نہیں پڑھی جاتی تھی۔یہ وہی لوگ تھے جن کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا (الـحجرات:۱۵) مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ذریعہ دوبارہ اسلام کو قائم کیا اور وہ آدم ثانی ہوئے۔میرے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بہت بڑا احسان اس امت پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ہے کیونکہ ان کے زمانہ میں چار جھوٹے پیغمبر ہوگئے۔مسیلمہ کے ساتھ ایک لاکھ آدمی ہوگئے تھے۔اور ان کا نبی ان کے درمیان سے اٹھ گیا تھا مگر ایسی مشکلات پر بھی اسلام اپنے مرکز پر قائم ہوگیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو توبات بنی بنائی ملی تھی۔پھر وہ اس کو پھیلاتے گئے۔یہاں تک کہ نواح عرب سے اسلام نکل کر شام و روم تک جا پہنچا اور یہ ممالک مسلمانوں کے قبضے میں آگئے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ والی مصیبت کسی نے نہیں دیکھی تھی نہ حضرت عمرؓ نے نہ حضرت عثمانؓنے اور نہ حضرت علیؓنے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور میرا باپ خلیفہ ہوا اور لوگ مرتد ہو گئے تو میرے