ملفوظات (جلد 8) — Page 118
کو ہوتاہے۔آپ نے ان کو منع کیا انہوں نے نہ لگایا۔اس سال کھجوریں نہ لگیں تو آپ نے فرمایا اَنْتُمْ اَعْلَمُ بِاُمُوْرِ دُنْیَاکُمْ یعنی تم اپنے دنیوی معاملات کو بہت جانتے ہو۔انبیاء علیہم السلام باوجود اس کے کہ بڑے قوی الحوصلہ اور صاحبِ ہمت لوگ ہوتے ہیں۔لیکن اگر انہیں قلبہ رانی کے لیے کہا جاوے تو انہیں کب توفیق ہو سکتی ہے۔اس لیے کہ وہ اس غرض کے لیے بنائے ہی نہیںجاتے۔جس مقصد اور غرض کے لیے وہ آتے ہیں اور اس راہ میں جو تکالیف اور مصائب انہیںاٹھانے پڑتے ہیں کوئی دوسرا شخص دنیا کا خواہ وہ کیسا ہی بہادر اور تنومند کیوں نہ ہو وہ ان مشکلات کو ہرگز ہرگز برداشت نہیں کر سکتا۔مگر اللہ تعالیٰ انبیاء علیہم السلام کو کچھ ایسا دل اور حوصلہ عطا کرتا ہے کہ وہ بڑی جرأت اور دلیری کے ساتھ ان کو برداشت کرتے ہیں۔خود انسان کو دیکھو کہ باوجودیکہ بڑا عقل مند اور عجیب عجیب ایجادیں کرتا ہے مگر بئے کا سا گھونسلا نہیں بنا سکتا۔اس لیے کہ اس قسم کے قویٰ اسے نہیں ملے۔شہد کی مکھی شہد بناتی ہے انسان کا کیا مقدور ہے کہ اس قسم کا شہد بنا سکے۔وہی بوٹیاں موجود ہیں مگر انسان عاجز ہے۔ہر چیز کو اللہ تعالیٰ نے جدا جدا طاقت دی ہے۔اسی طرح ایک طبقہ اناس کا وہ ہے جس کو روحانی قوتیں دی جاتی ہیں۔مُردوں سے استفاضہ ایک شخص نے سوال کیا کہ زندگی میں کسی مردے سے تعلق ہو یا مرید کا اپنے پیر سے ہو۔کیا وہ بھی اس سے فیض پا لیتا ہے؟ فرمایا۔صوفی تو کہتے ہیں کہ انسان مرنے کے بعد بھی فیض پاتا ہے بلکہ وہ کہتے ہیںکہ زندگی میں ایک دائرہ کے اندر محدود ہوتا ہے اور مرنے کے بعد وہ دائرہ وسیع ہوجاتا ہے اس کے سب قائل ہیں۔چنانچہ یہاں تک بھی مانا ہے کہ حضرت عیسیٰ جب آسمان سے آئیں گے تو چونکہ وہ علوم عربیہ سے نا واقف ہوں گے کیا کریں گے؟ بعض کہتے ہیں کہ وہ علوم عربیہ پڑھیں گے اور حدیث اور فقہ بھی پڑھیں گے۔بعض کہتے ہیں کہ یہ امر تو ان کے لیے موجب عار ہے کہ وہ کسی مولوی کے شاگرد ہوں۔اس لیے مانا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں بیٹھیں گے اور وہاں بیٹھ کر استفاضہ کریں گے۔مگر اصل میں یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔مگر اس سے اتنا ثابت ہوتا ہے کہ ان کا عقیدہ ہے