ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 111

الہام سنانے کے بعد فرمایا۔وَلَا نُبْقِيْ لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ ذِكْرًا سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی رسوا کرنے والا ذکر باقی نہ چھوڑیں گے۔یہ بڑا مبشر الہام ہے یعنی تیرے آنے کی جو علّتِ غائی ہے اس کو ہم پورا کر دیں گے۔کسی مامور و مرسل کے لیے رسوا کرنے والا ذکر یہی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد و اغراض میں ناکامیاب ہو۔سو اللہ تعالیٰ نے بشارت دی ہے کہ تیرے آنے کی جو غرض اور مقصد ہے اس کو ہم پورا کر دیں گے۔مگر یہ سنت اللہ ہے کہ جس قدرمامور دنیا میں آتے ہیں یہ ضروری نہیں سمجھا جاتا کہ ان کے ہی زمانہ میں پوری تکمیل ہو جاوے۔بلکہ بہت سے امور ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے متبعین کے ہاتھوں سے پورے ہوتے ہیں اور ان کے ہی ہاتھ پر وہ تکمیل سمجھی جاتی ہے۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد رسالت میں مکہ مدینہ اور بعض نواح تک اسلام تھا لیکن حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرؓ کے زمانہ میں اسلام کا دائرہ بہت وسیع ہوگیا۔اور بہت سے امور کی تکمیل صحابہؓ کے ہاتھ پر ہوئی جو درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی کامیابی اور آپ کے دست مبارک پر ہی تکمیل تھی۔اس کے بعد بنو امیہ اور دوسرے سلاطین کے ذریعہ ان ترقیوں میں اور ترقی ہوئی اور محمود غزنوی نے بھی ان میں حصہ لیا۔اور یہ سلاطین ہند جو سات سو برس تک حکمران رہے کسی حد تک ان کو بھی حصہ ملا۔انہوں نے ایسی ایسی جگہ مساجد تعمیر کرائیں جو ہندوؤں کے مرکز تھے۔غرض یہ سنت اللہ ہے جو مامور ہو کر آتا ہے۔ضروری نہیں کہ سب مقاصد اس کے وقت ہی میں مکمل ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر اور کون ہو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ قیصر و کسریٰ کے خزانوں کی کنجیاں مجھے دی گئی ہیں۔لیکن وہ کنجیاں آپ کے بعد حضرت عمرؓکو دی گئیں۔یہ کہنا کہ وہ آپ کو نہیں ملیں غلط ہے کیونکہ اس بات کو تسلیم کر لیا گیا ہے کہ متبعین کی فتوحات اور کامیابیاں بھی دراصل متبوع ہی کی فتوحات ہوتی ہیں۔مامور کی وفات پر جماعت کا غمگین ہونا فطری امر ہے ’’اس دن سب پر اداسی چھا جائے گی۔‘‘