ملفوظات (جلد 8) — Page 112
اس کے متعلق فرمایا کہ یہ بالکل سچ ہے۔جب اللہ تعالیٰ کا کوئی مامور دنیا سے اٹھتا ہے تو ہر چیز پر ایک اداسی چھا جاتی ہے خصوصاً ان لوگوں پر جو اس کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔انسان کی عادت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ ہر بات کو قبل از وقت سمجھتا ہے۔اس لیے جب اس کی کوئی محبوب چیز جاتی رہے تو پھر ضرور غمگین ہوتا ہے۔یہ ایک فطرتی تقاضا ہے۔صحابہ کی حالت کا کون اندازہ کر سکتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت تھی۔ان کو تو قریباً ایک قسم کا جنون ہوگیا تھا اس غم میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی میں ان پر آیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تو وہ جوش آیا کہ انہوں نے تلوار ہی نکال لی کہ جو شخص کہے گا کہ آپ وفات پاگئے ہیں میں اسے قتل کر دوں گا۔گویا وہ یہ لفظ بھی سننا نہ چاہتے تھے۔پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا اور آیت مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ( اٰلِ عـمران:۱۴۵) پڑھی تو ان کا جوش فرو ہوا۔یہ آیت دراصل ایک جنگ میں نازل ہوئی تھی جبکہ شیطان کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی آواز دی گئی مگر اس وقت حضرت ابو بکر نے اس آیت کو پڑھا تو صحابہ سمجھتے تھے کہ گویا یہ آیت ابھی اتری ہے۔یقینی الوجود عالَم آخرت فرمایا۔ایسے امور میں حیرت اور سرگشتگی ایک لازمی امر ہوتا ہے۔یہ اختیاری بات نہیں کہ نہ ہو۔میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جو قبل از وقت ان امور کو بار بار ظاہر کرتا ہے۔اس میں یہ سِر ہے کہ تاجماعت کی تسلّی اور اطمینان کا موجب ہو۔ہم یہ ایمان رکھتے ہیں کہ دو عالَم ہیں جو یقینی الوجود ہیں۔ایک تو یہی عالَم جس میں ہم اب ہیں اور زندگی بسر کر رہے ہیں۔دوسرا وہ عالَم جس میں مرنے کے بعد ہم داخل ہوتے ہیں۔چونکہ انسان کو اس کا وسیع علم نہیں ہوتا اس لیے اسے وہمی سمجھتا اور اس سے کراہت کرتا ہے۔اس کی وجہ بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ اس کی خبر نہیں۔اور اس عالَم میں چونکہ رہتا ہے اور اس کی خبر اور اطلاع ہے اس لیے اس سے محبت کرتا ہے اور اسی میں رہنا چاہتا ہے۔اگر اس عالَم پر پورا یقین ہوجاوے تو