ملفوظات (جلد 8) — Page 110
طرح پر اللہ تعالیٰ کی معرفت سے بے نصیب اور حقوق کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔اور حقوق العباد کی طرف سے ایسے اندھے ہیں کہ نیوگ جیسے مسئلہ کو مانتے ہیں۔باوجود ایسا مذہب رکھنے کے پھر ان میں اس کی حمایت کے لیے اس قدر جوش ہے کہ بہت سے تعلیم یافتہ اپنی زندگیاں مذہب کی خاطر وقف کر دیتے ہیں۔اور یہاں یہ حال ہے کہ جو مدرسہ سے نکلتا ہے اس کو دنیوی امور کی طرف ہی توجہ ہو جاتی ہے۔جہاں تک ہو سکے یہی آرزو ہے کہ کوئی دینی خدمت ہو جاوے۔تازہ الہامات رات پھر وہی الہام ہوا جو پہلے بھی ہو چکا ہے۔(۱) بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔(۲) قَلَّ مِیْعَادُ رَبِّکَ۔(۳) اس دن سب پر اداسی چھا جائے گی۔(۴) قَرُبَ اَجَلُکَ الْـمُقَدَّرُ۔وَلَا نُبْقِیْ لَکَ مِنَ الْـمُخْزِیَاتِ ذِکْرًا۔ان الہامات پر غور کر کے میں بھی سمجھتا ہوں کہ وہ زمانہ بہت ہی قریب ہے۔پہلے بھی یہ الہام ہوا تھا۔اس وقت اس کے ساتھ ایک رؤیا بھی تھی کہ ایک شخص نے مجھے کنوئیں کی ایک کوری ٹنڈ میں ٹھنڈا پانی دیا وہ پانی بڑا ہی مصفّٰی اور مقطّر تھا مگر وہ تھوڑا سا تھا اور اس کے ساتھ الہام ہوا تھا ’’آبِ زندگی‘‘ غرض زندگی کا زمانہ خواہ کتنا ہی لمبا ہو پھر بھی تھوڑا ہی ہے۔(قبل عصر) مامورین کے اغراض و مقاصد کا ان کے متبعین کے ذریعہ پورا ہونا ۳۰؍نومبر ۱۹۰۵ء کی صبح کو جناب سیٹھ عبد الرحمٰن صاحب مدراسی واپس وطن کو جانے والے تھے اس لیے حضرت اقدس سیٹھ صاحب کی ملاقات کے واسطے مہمان خانہ جدید میں جہاں سیٹھ صاحب اور دوسرے احباب فروکش تھے تشریف لائے اور سیٹھ صاحب کو مخاطب کرکے فرمایا۔رات مجھے یہ الہام ہوا ہے (وہی الہام جو اوپر درج ہوچکے ہیں سنائے)