ملفوظات (جلد 8) — Page 109
قسم کی شیخیاں اچھی نہیں ہوتی ہیں۔اسی طرح شیعہ بھی کہتے ہیں۔اگر پیشگوئیاں اور خوارق یہی ہوتے ہیں تو پھر یزید کی کرامت کا بھی ان کو قائل ہونا پڑے گا۔افسوس یہ لوگ نہیں سوچتے کہ راستباز وہی ہے جس کی شہادت خدا دے۔اور کسی قہر کے وقت امتیازی رنگ اس کے ساتھ ہو۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت فرعونی تباہ ہوئے مگر موسیٰ اور اس کے ساتھ والوں کو اللہ تعالیٰ نے بچا لیا۔اس قسم کی باتیں ہوتی رہیں۔طاعون کا ذکر چل پڑا۔آپ نے پرانی رؤیا ہاتھی والی بیان کی اور بالآخر فرمایا کہ میرا الہام تو یہی ہے اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ جب تک پوری تبدیلی اور اصلاح نہیں ہوتی خدا تعالیٰ کا یہ عذاب ٹلتا نظر نہیں آتا۔۱ ۲۹؍نومبر ۱۹۰۵ء (قبل ظہر) مدرسہ کے اجرا کی غرض فرمایا۔ہماری غرض مدرسہ کے اجرا سے محض یہ ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کیا جاوے۔مروجہ تعلیم کو اس لیے ساتھ رکھا ہے کہ یہ علوم خادمِ دین ہوں۔ہماری یہ غرض نہیں کہ ایف اے یا بی اے پاس کرکے دنیا کی تلاش میں مارے مارے پھریں۔ہمارے پیش نظر تو یہ امر ہے کہ ایسے لوگ خدمت دین کے لیے زندگی بسر کریں۔اور اسی لیے مدرسہ کو ضروری سمجھتا ہوں کہ شاید دینی خدمت کے لیے کام آسکے۔مشکل یہ ہے کہ جس کو ذرا بھی استعداد ہو جاوے وہ دنیا کی طرف جھک جاتا ہے۔میں چاہتا ہوں ایسے لوگ پیدا ہوں جیسے مولوی محمد علی صاحب کام کر رہے ہیں۔زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔اب وہ اکیلے ہیں۔کوئی ان کا ہاتھ بٹانے والا یا قائم مقام نظر نہیں آتا۔میں دیکھتا ہوں کہ آریوں کی یہ حالت ہے کہ ایک طرف تو وہ ذرہ ذرہ کو خدا بنا رہے ہیں اور اس ۱ الحکم جلد ۹ نمبر ۴۲ مورخہ ۳۰؍ نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲