ملفوظات (جلد 8) — Page 108
خدائی ماننی چاہیے کیونکہ وہ بانجھ سے پیدا ہوئے تھے۔غرض اوائل میں اس قسم کی گفتگو ہوتی رہی تھیں۔پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان کی معرفت زیادہ کی تو ایک دن کہنے لگے آپ گواہ رہیں آج سے میں نے سب گفتگوئیں ترک کر دیں اس کے بعد موت تک بجز تسلیم اور کچھ نہ ہوگا۔اور پھر میں نے دیکھا کہ اس دن کے بعد موت تک واقعی یہی حالت رہی کہ رضا اور تسلیم کے سوا کوئی اور بات تھی ہی نہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ جن لوگوں نے ان کے خطبات سنے ہیں وہ یہ بات جانتے ہیں کہ ان میں بجز میرے حالات اور ذکر کے اور کچھ نہ ہوتا تھا بلکہ بعض اوقات میں نے سنا کہ بعض آدمی اس امر کو کسی حد تک پسند نہیں کرتے۔مگر وہ بجز اس کے اور کچھ کہنا نہ چاہتے تھے۔اس مقام پر میں۱ نے عرض کی کہ حضور مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ وہ تقریر اور کلام میرے نزدیک حرام ہے جس میں حضرت مسیح موعود کی سچائی کا ذکر نہ ہو۔یہ الفاظ سن کر میں نے دیکھا کہ (مامور) آنحضرتؑکی آنکھوں پُر نم ہوگئی تھی۔لیکن ان لوگوں کا ضبط اور صبر لا نظیر ہوتا ہے اس لیے ضبط کا نمونہ دکھلایا مگر چہرہ سرخ ہوگیا تھا اور اس میں خاص قسم کی درخشندگی پائی جاتی تھی۔پھر اس ذکر کے سلسلہ میں فرمایا کہ ان کی بڑی بیوی نے رؤیا دیکھا تھا کہ مولوی صاحب کہتے ہیں کہ میں احمدی ہوگیا ہوں۔اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ میری محبت میں فنا ہوگئے تھے۔اچھا۔اللہ تعالیٰ مغفرت کرے۔آمین ثم آمین راستباز وہی ہے جس کی شہادت خدا دے مولوی صاحب کے اس ذکر کے بعد سید امیر علی شاہ نے جماعت علی کا ذکر کیا کہ وہ ان کی موت کو اپنی پیشگوئی کی بنا پر ظاہر کرتا ہے۔اس پر فرمایا۔موت فوت سے تو کوئی رہ نہیں سکتا۔انبیاء علیہم السلام پر بھی موت آئی۔انہیں ٹھٹھا کرنا اور اس ۱ یعنی ایڈیٹر الحکم (مرتّب)