ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 106

بلا تاریخ (بمقام لدھیانہ) سوادیشی تحریک پر حضرت مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رائے آج کل بنگالیوں کو بالخصوص اور ان کے دیکھا دیکھی ہندوستان کے دیگر علاقہ کے آریوں اور ہندوؤں کو بالعموم یہ جوش پیدا ہو رہا ہے کہ یورپ کی اشیاء کو قطعاً حرام کر کے صرف ہندوستانی ساخت کی اشیاء کا استعمال کریں۔لدھیانہ میں ایک ہندو صاحب حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے یہی ذکر چھیڑا کہ ہمارا ملک بہت غریب ہو گیا ہے ان کے افلاس کو دور کرنے کی کوشش آپ کریں اور سوادیشی کے متعلق آپ تائید اور تحریک کریں۔اس کے جواب میں حضرت اقدسؑ نے فرمایا۔غربت اور افلاس اس ملک کے ساتھ خاص نہیں ہر جگہ غریب لوگ بھی ہوتے ہیں۔ہم سنتے ہیں کہ ولایت کے بعض شہروں میں جو بڑے امیر شہر سمجھے جاتے ہیں کئی لوگ فاقہ کشی سے مر جاتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں کبھی ایسا سننے میں نہیں آیا کہ کوئی شخص بھوک سے فوت ہوگیا ہو اور سوادیشی کے متعلق یہ ہےکہ اپنے وطن کی چیز کا استعمال بے شک عمدہ بات ہے۔خود گورنمنٹ بھی اس کو پسند کرتی ہےکہ تمام ضروری اشیاء کی ساخت کا ہنر ہندوستانی سیکھیں۔اور حرفت اور تجارت میں ترقی کریں لیکن موجودہ تحریک سوادیشی اپنے اندر ایک بغاوت کی خفیہ ملونی رکھتی ہے اور دراصل اس تحریک کی ابتدا ملکی اشیاء کی ہمدردی سے نہیں ہے۔بلکہ تقسیم بنگالہ پر بنگالیوں کی ناراضگی اس کی جڑ ہے۔اس واسطے یہ امر منحوس معلوم ہوتا ہے۔علاوہ ازیں ملک کے تمام حرفے مدت سے موقوف ہو چکے ہیں ان کو پھر جب تک بحال نہ کیا جائے تب تک ایسی تحریکیں بجائے فائدہ کے نقصان کا موجب ہوں گی۔غرض موجودہ تحریک سوادیشی کسی نیک نیتی پر مبنی نہ ہونے