ملفوظات (جلد 8) — Page 107
کے سبب قابل ہمدردی اور شمولیت نہیں ہے۔۱ ۲۶؍نومبر ۱۹۰۵ء (قبل دوپہر) حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ کا ذکر خیر سید امیر علی شاہ کے ساتھ مخدوم الملۃ کا ذکر چل پڑا، حضرت مولوی عبد الکریم ؓکے ذکر پر فرمایا۔مولوی صاحب ہر تقریب اور ہر جلسہ پر یاد آجاتے ہیں۔ان کے سبب لوگوں کو فائدہ ہوتا تھا۔وہ بڑی زبردست تقریر کرنے والے تھے۔میں نے مقابلہ کر کے خوب دیکھا ہے ان کے اندر محبت اور اخلاص کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور بجز اس کے میں سمجھتا ہوںاور کچھ تھا ہی نہیں اور اس حد تک تھا کہ میں دیکھتا ہوں کہ دوسروں میں وہ نہیں۔میں ان سے بہت عرصہ سے واقف ہوں۔اس وقت بھی میں نے ان کو دیکھا تھا جب وہ نیچری تھے۔اس وقت بیعت بھی کر لی تھی۔لیکن ابھی بعض امور ان کے دل میں تھے۔چنانچہ مسیح کے بے پدر ہونے پر مجھ سے گفتگو بھی کیا کرتے تھے اور کئی بار کہا کرتے کہ ان کا بھی فیصلہ کر دو۔مگر میں انہیں جواب دیا کرتا کہ ہمارا یہی مذہب ہے کہ وہ بن باپ ہوئے۔اس کا زبردست ثبوت یہ ہے کہ یحییٰ اور عیسیٰ کا قصہ ایک ہی جگہ بیان کیا ہے۔پہلے یحییٰ کا ذکر کیا جو بانجھ سے پیدا ہوئے۔دوسرا قصہ مسیح کا اس کے بعد بیان فرمایا جو اس سے ترقی پر ہونا چاہیے تھا اور وہ یہی ہے کہ وہ بن باپ ہوئے اور یہی امر خارق عادت ہے۔اگر بانجھ سے پیدا ہونے والے یحییٰ کے بعد باپ سے ہونے والے کا ذکر ہوتا تو اس میں خارق عادت کی کیا بات ہوئی؟ اور عیسائی جو ان کے بن باپ ہونے سے خدا بناتے ہیں اس کا جواب دوسری جگہ دے دیا اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ( اٰلِ عـمران:۶۰) اب اگر بن باپ پیدا ہونے والا خدا ہو سکتا ہے تو پھر جس کا ماں اور باپ دونوں نہ ہوں وہ تو بدرجہ اولیٰ خدا ہو گا مگر ان کو وہ خدا نہیں مانتے اور ایسا ہی یحییٰ میں بھی ۱ بدر جلد ۱ نمبر ۳۷ مورخہ ۲۴؍نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۷