ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 105

اس پر فرمایا۔پہلے ایک الہام ہوا تھا جس کو عرصہ ہوتا ہے سَلْمَانُ مِنَّا اَھْلَ الْبَیْتِ عَلٰی مَشْـرَبِ الْـحَسَنِ یُصَالِـحُ بَیْنَ النَّاسِ۔۱ اور اب یہ الہام ہوا ہے جس میں مجھے یَا ابْنَ رَسُوْلِ اللہِ فرمایا ہے۔دوسرے الہام کے متعلق فرمایا کہ یہ امر جو ہے کہ سب مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں جمع کرو عَلٰی دِیْنٍ وَّاحِدٍ یہ ایک خاص قسم کا امر ہے۔احکام و اوامر کی دو قسمیں احکام اور امر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک شرعی رنگ میں ہوتے ہیں جیسے نماز پڑھو، زکوٰۃ دو، خون نہ کرو وغیرہ۔اس قسم کے اوامر میں ایک پیشگوئی بھی ہوتی ہے کہ گویا بعض لوگ ایسے بھی ہوں گے جو اس کی خلاف ورزی کریں گے۔جیسے یہود کو کہا گیا کہ توریت کو محرف مبدل نہ کرنا۔یہ بتاتا تھا کہ بعض ان میں سے کریں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔غرض یہ امر شرعی ہے اور یہ اصطلاح شریعت ہے۔دوسرا امر کونی ہوتا ہے اور یہ احکام اور امر قضا و قدر کے رنگ میں ہوتے ہیں جیسے قُلْنَا يٰنَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا (الانبیاء:۷۰) اور وہ پورے طور پر وقوع میں آگیا۔اور یہ امر جو میرے اس الہام میں ہے یہ بھی اس قسم کا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ مسلمانان روئے زمین عَلٰی دِیْنٍ وَّاحِدٍ جمع ہوں اور وہ ہو کر رہیں گے۔ہاں اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ان میں کوئی کسی قسم کا بھی اختلاف نہ رہے۔اختلاف بھی رہے گا مگر وہ ایسا ہوگا جو قابل ذکر اور قابل لحاظ نہیں۔۲ ۱ یہ الہام ۱۹۰۱ء کا ہے اور الحکم میں چھپا ہوا ہے۔(ایڈیٹر ) ۲ الحکم جلد ۹ نمبر ۴۲ مورخہ ۳۰؍ نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲