ملفوظات (جلد 8) — Page 101
قیاس کی حجت اِن ساری باتوں کے علاوہ میں اب قیاس کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ اگرچہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ میرے ساتھ ہیں۔اجماع صحابہ بھی میری تائید کرتا ہے۔نشانات اور تائیداتِ الٰہیہ میری مؤید ہیں۔ضرورتِ وقت میرا صادق ہونا ظاہر کرتی ہے۔لیکن قیاس کے ذریعہ سے بھی حجت پوری ہو سکتی ہے۔اِس لئے دیکھنا چاہیے کہ قیاس کیا کہتا ہے؟ انسان کبھی کسی ایسی چیز کے ماننے کو طیار نہیں ہو سکتا جو اپنی نظیر نہ رکھتی ہو۔مثلاً اگر ایک شخص آکر کہے کہ تمہارے بچے کو ہوا اڑا کر آسمان پر لے گئی ہے یا بچہ کتا بن کر بھاگ گیا ہے۔تو کیا تم اس کی بات کو بلاوجہ معقول اور بلا تحقیق مان لو گے؟ کبھی نہیں۔اس لئے قرآن مجید نے فرمایا فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(الانبیاء:۸) اب مسیح علیہ السلام کی وفات کے مسئلہ پر اور ان کے آسمان پر اُڑ جانے کے متعلق غور کرو قطع نظر اُن دلائل کے جو اُن کی وفات کے متعلق ہیں۔یہ پکّی بات ہے کہ کفار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آسمان پر چڑھ جانے کا معجزہ مانگا اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو ہر طرح کامل اور افضل تھے ان کو چاہیے تھا کہ وہ آسمان پر چڑھ جاتے مگر اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحی سے کیا جواب دیا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا(بنی اسـرآءیل:۹۴) اس کا مفہوم یہ ہے کہ کہہ دو اللہ تعالیٰ اس امر سے پاک ہے کہ وہ خلاف وعدہ کرے جبکہ اُس نے بشر کے لئے آسمان پر مع جسم کے جانا حرام کر دیا ہے۔اگر میں جاؤںتو جھوٹا ٹھیروں گا۔اب اگر تمہارا یہ عقیدہ صحیح ہے کہ مسیح آسمان پر چلا گیا ہے اور کوئی بالمقابل پادری یہ آیت پیش کرکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرے تو تم اس کا کیا جواب دے سکتے ہو؟ پس ایسی باتوں کے ماننے سے کیا فائدہ جن کا کوئی اصل قرآن مجید میں موجود نہیں۔اس طرح پر تم اسلام کو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنے والے ٹھیروگے۔پھر پہلی کتابوں میں بھی تو کوئی نظیر موجود نہیں۔اور ان کتابوں سے اجتہاد کرنا حرام نہیں ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ (الاحقاف:۱۱) اور پھر فرمایا كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَ بَيْنَكُمْ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ(الرّعد:۴۴) اور ایسا ہی فرمایا يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا