ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 102

يَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ(البقرۃ:۱۴۷) جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ثبوت کے لئے ان کو پیش کرتا ہے تو ہمارا ان سے اجتہاد کرنا کیوں حرام ہوگیا۔اب انہیں کتابوں میں ملا کی نبی کی ایک کتاب ہے جو بائبل میں موجود ہے۔اِس میں مسیح سے پہلے ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کا وعدہ کیا گیا۔آخر جب مسیح ابن مریم آئے تو حضرت مسیح سے الیاس کے دوبارہ آنے کا سوال ملاکی نبی کی اس پیشگوئی کے موافق کیا گیا مگر حضرت مسیح نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ آنے والا یوحنّا کے رنگ میں آچکا۔اب یہ فیصلہ حضرت عیسیٰ ہی کی عدالت سے ہو چکا ہے کہ دوبارہ آنے والے سے کیا مراد ہوتی ہے۔وہاں یحییٰ کا نام مثیل الیاس نہیں رکھا بلکہ انہیں ہی ایلیا قرار دیا گیا۔اب یہ قیاس بھی میرے ساتھ ہے۔میں تو نظیر پیش کرتا ہوں مگر میرے منکر کوئی نظیر پیش نہیں کرتے۔بعض لوگ جب اس مقام پر عاجز آجاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ کتابیں محر ّ ف مبدّل ہیں۔مگر افسوس ہے یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ اس سے سند لیتے رہے اور اکثر اکابر نے تحریف معنوی مراد کی ہے۔بخاری نے بھی یہی کہا ہے۔علاوہ اس کے یہودیوں اور عیسائیوں کی جانی دشمنی ہے۔کتابیں جُدا جُدا ہیں۔وہ اب تک مانتے ہیں کہ الیاس دوبارہ آئے گا۔اگر یہ سوال نہ ہوتا تو حضرت مسیح کو وہ مان نہ لیتے؟ ایک فاضل یہودی کی کتاب میرے پاس ہے وہ بڑے زور سے لکھتا ہے اور اپیل کرتا ہے کہ اگر مجھ سے یہ سوال ہوگا تو میں ملاکی نبی کی کتاب سامنے رکھ دوںگا کہ اس میں الیاس کے دوبارہ آنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔اب غور کرو جبکہ باوجود ان عذرات کے لاکھوں یہودی جہنمی ہوئے اور سؤر بندر بنے تو کیا میرے مقابلہ میں یہ عذر صحیح ہوگا کہ وہاں مسیح ابن مریم کا ذکر ہے۔یہودی تو معذور ہو سکتے تھے ان میں نظیر نہ تھی۔مگر اب تو کوئی عذر باقی نہیں۔مسیح کی موت قرآن شریف سے ثابت ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیت اس کی تصدیق کرتی ہے۔اور پھر قرآن شریف اور حدیث میں مِنْکُمْ آیا ہے۔پھر خدا تعالیٰ نے مجھے خالی ہاتھ نہیں بھیجا ہزاروں لاکھوں نشان میری تصدیق میں