ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 100 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 100

نہیں دیکھا کہ کیونکر بیان کی اللہ نے مثال یعنی مثال دین کامل کی کہ وہ بات پاکیزہ، درخت پاکیزہ کی مانند ہے جس کی جڑھ ثابت ہو اور جس کی شاخیں آسمان میں ہوں اور وہ ہر وقت اپنا پھل اپنے پروردگار کے حکم سے دیتا ہے۔اَصْلُهَا ثَابِتٌ سے مراد یہ ہے کہ اصول ایمانیہ اس کے ثابت اور محقق ہوں اور یقین کامل کے درجہ تک پہنچے ہوئے ہوں۔اور وہ ہر وقت اپنا پھل دیتا رہے کسی وقت خشک درخت کی طرح نہ ہو۔مگر بتاؤ کہ کیا اب یہ حالت ہے؟ بہت سے لوگ کہہ تو دیتے ہیں کہ ضرورت ہی کیا ہے؟ اس بیمار کی کیسی نادانی ہے جو یہ کہے کہ طبیب کی حاجت ہی کیا ہے؟ وہ اگر طبیب سے مستغنی ہے اور اس کی ضرورت نہیں سمجھتا تو اس کا نتیجہ اس کی ہلاکت کے سوا اور کیا ہوگا؟ اس وقت مسلمان اَسْلَمْنَا میں تو بے شک داخل ہیں مگر اٰمَنَّا کی ذیل میں نہیں اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب ایک نور ساتھ ہو۔غرض یہ وہ باتیں ہیں جن کے لیے میں بھیجا گیا ہوں۔اس لئے میرے معاملہ میں تکذیب کے لیے جلدی نہ کرو بلکہ خدا سے ڈرو اور توبہ کرو کیونکہ توبہ کرنے والے کی عقل تیز ہوتی ہے۔طاعون کا نشان بہت خطرناک نشان ہے اور خدا تعالیٰ نے اِس کے متعلق مجھ پر جو کلام نازل کیا ہے وہ یہ ہے۔اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ(الرعد:۱۲) یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور اس پر لعنت ہے جو خدا تعالیٰ پر افترا کرے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے ارادے کی اس وقت تبدیلی ہوگی جب دلوں کی تبدیلی ہوگی۔پس خدا سے ڈرو اور اس کے قہر سے خوف کھاؤ۔کوئی کسی کا ذمہ وار نہیں ہو سکتا۔معمولی مقدمہ کسی پر ہو تو اکثر لوگ وفا نہیں کر سکتے۔پھر آخرت میں کیا بھروسہ رکھتے ہو جس کی نسبت فرمایا۔یَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ(عبس:۳۵)۔مخالفوں کا تو یہ فرض تھا کہ وہ حسن ظنّی سے کام لیتے اور لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ (بنی اسـرآءیل:۳۷) پر عمل کرتے مگر انہوں نے جلد بازی سے کام لیا۔یاد رکھو پہلی قومیں اسی طرح ہلاک ہوئیں۔عقل مند وہ ہے جو مخالفت کر کے بھی جب اُسے معلوم ہو کہ وہ غلطی پر تھا اُسے چھوڑ دے۔مگر یہ بات تب نصیب ہوتی ہے کہ خدا ترسی ہو۔دراصل مردوں کا کام یہی ہے کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کریں۔وہی پہلوان ہے اور اُسی کو خدا پسند کرتا ہے۔