ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 98 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 98

دو۔یونہی منہ سے ایک بات نکال دینا آسان ہے مگر خدا کے خوف سے بات نکالنا مشکل ہے۔اس کے علاوہ یہ بات بھی توجہ کے قابل ہے کہ خدا تعالیٰ ایک مفتری اور کذّاب انسان کو اتنی لنبی مہلت نہیں دیتا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ جاوے۔میری عمر ۶۷ سال کی ہے اورمیری بعثت کا زمانہ ۲۳ سال سے بڑھ گیا ہے۔اگر میں ایسا ہی مفتری اور کذّاب تھا تو اللہ تعالیٰ اس معاملہ کو اتنا لنبا نہ ہونے دیتا۔بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ تمہارے آنے سے کیا فائدہ ہوا؟ مسیح موعود کے آنے کی غرض یاد رکھوکہ میرے آنے کی دو غرضیں ہیں۔ایک یہ کہ جو غلبہ اِس وقت اسلام پر دوسرے مذاہب کا ہوا ہے گویا وہ اسلام کو کھاتے جاتے ہیں اور اسلام نہایت کمزور اور یتیم بچے کی طرح ہوگیا ہے۔پس اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے تا میں ادیانِ باطلہ کے حملوں سے اسلام کو بچاؤں اور اسلام کے پُر زور دلائل اور صداقتوں کے ثبوت پیش کروں۔اور وہ ثبوت علاوہ علمی دلائل کے انوار اور برکاتِ سماوی ہیں جو ہمیشہ سے اسلام کی تائید میں ظاہر ہوتے رہے ہیں۔اس وقت اگر تم پادریوں کی رپورٹیں پڑھو تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ اسلام کی مخالفت کے لئے کیا سامان کررہے ہیں۔اور ان کا ایک ایک پرچہ کتنی تعداد میں شائع ہوتا ہے۔ایسی حالت میں ضروری تھا کہ اسلام کا بول بالا کیا جاتا۔پس اِس غرض کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے۔اور میں یقیناً کہتا ہوں کہ اسلام کا غلبہ ہو کر رہے گا اور اس کے آثار ظاہر ہو چکے ہیں۔ہاں یہ سچی بات ہے کہ اس غلبہ کے لئے کسی تلوار اور بندوق کی حاجت نہیں اور نہ خدا نے مجھے ہتھیاروں کے ساتھ بھیجا ہے۔جو شخص اِس وقت یہ خیال کرے وہ اسلام کا نادان دوست ہوگا۔مذہب کی غرض دلوں کو فتح کرنا ہوتی ہے اور یہ غرض تلوار سے حاصل نہیں ہوتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تلوار اُٹھائی میں بہت مرتبہ ظاہر کر چکا ہوں کہ وہ تلوار محض حفاظت خود اختیاری اور دفاع کے طور پر تھی اور وہ بھی اس وقت جبکہ مخالفین اور منکرین کے مظالم حد سے گذر گئے اور بے کس مسلمانوں کے خون سے زمین سُرخ ہو چکی۔غرض میرے آنے کی غرض تو یہ ہے کہ اسلام کا غلبہ دوسرے ادیان پر ہو۔دوسرا کام یہ ہے کہ