ملفوظات (جلد 8) — Page 97
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ خبر دی گئی تھی وہ بھی پورے ہوگئے۔مثلاً ان میں سے ایک کسوف خسوف کا ہی نشان ہے جو تم سب نے دیکھا۔یہ صحیح حدیث میں خبر دی گئی تھی کہ مہدی اور مسیح کے وقت میں رمضان کے مہینے میں سورج اور چاند گرہن ہوگا۔اب بتاؤ کہ کیا یہ نشان پورا ہوا ہے یا نہیں؟ کوئی ہے جو یہ کہے کہ اُس نے یہ نشان نہیں دیکھا؟ اورایسا ہی یہ بھی خبر دی گئی تھی کہ اس زمانہ میں طاعون پھیلے گی۔یہاں تک شدید ہوگی کہ دس میں سے سات مر جاویں گے۔اب بتاؤ کہ کیا طاعون کا نشان ظاہر ہوا یا نہیں؟ پھر یہ بھی لکھا تھا کہ اس وقت ایک نئی سواری ظاہر ہوگی جس سے اونٹ بیکار ہو جائیں گے۔کیا ریل کے اجرا سے یہ نشان پورا نہیں ہوا؟ میں کہاں تک شمار کروں یہ بہت بڑا سلسلہ نشانات کا ہے۔اب غور کرو کہ میں تو دعویٰ کرنے والا دجّال اور کاذب قرار دیا گیا پھر یہ کیا غضب ہوا کہ مجھ کاذب کے لئے ہی یہ سارے نشان پورے ہوگئے؟ اور پھر اگر کوئی آنے والا اور ہے تو اس کو کیا ملے گا؟ کچھ تو انصاف کرو اور خدا سے ڈرو۔کیا خدا تعالیٰ کسی جھوٹے کی بھی ایسی تائید کیا کرتا ہے؟ عجیب بات ہے کہ جو میرے مقابلہ میں آیا وہ ناکام اور نامراد رہا اور مجھے جس آفت اور مصیبت میں مخالفین نے ڈالا میں اس میں سے صحیح سلامت اور بامراد نکلا۔پھر کوئی قسم کھا کر بتاوے کہ جھوٹوں کے ساتھ یہی معاملہ ہوا کرتا ہے؟ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان مخالف الرائے علماء کو کیا ہوگیا۔وہ غور سے کیوں قرآن شریف اور احادیث کو نہیں پڑھتے۔کیا انہیں معلوم نہیں کہ جس قدر اکابر اُمت کے گذرے ہیں وہ سب کے سب مسیح موعود کی آمد چودھویں صدی میں بتاتے رہے ہیں۔اور تمام اہل کشوف کے کشف یہاں آکر ٹھیر جاتے ہیں۔حجج الکرامہ میں صاف لکھا ہے کہ چودھویں صدی سے آگے نہیں جائے گا۔یہی لوگ منبروں پر چڑھ چڑھ کر بیان کیا کرتے تھے کہ تیرھویں صدی سے تو جانوروں نے بھی پناہ مانگی ہے اور چودھویں صدی مبارک ہوگی مگر یہ کیا ہوا کہ وہ چودھویں صدی جس پر ایک موعود امام آنے والا تھا اُس میں بجائے صادق کے کاذب آگیا۔اور اُس کی تائید میں ہزاروں لاکھوں نشان بھی ظاہر ہوگئے اور خدا تعالیٰ نے ہر میدان اور ہرمقابلہ میں نصرت بھی اُسی کی کی۔ان باتوں کا ذرا سوچ کر جواب