ملفوظات (جلد 8)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 99 of 389

ملفوظات (جلد 8) — Page 99

جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم نماز پڑھتے ہیں اور یہ کرتے ہیں اور وہ کرتے ہیں یہ صرف زبانوں پر حساب ہے۔اس کے لیے ضرورت ہے کہ وہ کیفیت انسان کے اندر پیدا ہو جاوے جو اسلام کا مغز اور اصل ہے۔میں تو یہ جانتا ہوں کہ کوئی شخص مومن اور مسلمان نہیں بن سکتا جب تک ابوبکر،عمر،عثمان، علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کا سارنگ پیدا نہ ہو وہ دنیا سے محبت نہ کرتے تھے بلکہ انہوں نے اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کی ہوئی تھیں۔اب جو کچھ ہے وہ دنیا ہی کے لئے ہے۔اور اس قدر استغراق دنیا میں ہورہا ہے کہ خدا تعالیٰ کے لئے کوئی خانہ خالی نہیں رہنے دیا۔تجارت ہے تو دنیا کے لئے۔عمارت ہے تو دنیا کے لئے۔بلکہ نماز روزہ اگر ہے تو وہ بھی دنیا کے لئے۔دنیاداروں کے قرب کے لئے تو سب کچھ کیا جاتا ہے مگر دین کا پاس ذرہ بھی نہیں۔اب ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ کیا اسلام کے اعتراف اور قبولیت کا اتنا ہی منشا تھا جو سمجھ لیا گیا ہے یا وہ بلند غرض ہے۔میں تویہ جانتا ہوں کہ مومن پاک کیا جاتا ہے اور اس میں فرشتوں کا رنگ ہو جاتا ہے۔جیسے جیسے اللہ تعالیٰ کا قرب بڑھتا جاتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا کلام سنتا اور اُس سے تسلّی پاتا ہے۔اب تم میں سے ہر ایک اپنے اپنے دل میں سوچ لے کہ کیا یہ مقام اُسے حاصل ہے؟ میں سچ کہتا ہوں کہ تم صرف پوست اور چھلکے پر قانع ہوگئے ہو حالانکہ یہ کچھ چیز نہیں ہے۔خدا تعالیٰ مغز چاہتا ہے۔پس جیسے میرا یہ کام ہے کہ اُن حملوں کو رو کا جاوے جو بیرونی طور پر اسلام پر ہوتے ہیں ویسے ہی مسلمانوں میں اسلام کی حقیقت اور رُوح پیدا کی جاوے۔میں چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں میں جو خدا تعالیٰ کی بجائے دنیا کے بُت کو عظمت دی گئی ہے اُس کے اَمَانِی اور امیدوں کو رکھا گیا ہے۔مقدمات، صلح جو کچھ ہے وہ دنیا کے لئے ہے۔اس بُت کو پاش پاش کیا جاوے۔اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جبروت اُن کے دلوں میں قائم ہو اور ایمان کا شجر تازہ بتازہ پھل دے۔اس وقت درخت کی صورت ہے مگر اصل درخت نہیں کیونکہ اصل درخت کے لئے تو فرمایا۔اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِي السَّمَآءِ تُؤْتِيْٓ اُكُلَهَا كُلَّ حِيْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا( ابراھیم:۲۵،۲۶) یعنی کیا تُونے