ملفوظات (جلد 8) — Page 96
حدیث پیش کرتا ہوں، اجماع صحابہ پیش کرتا ہوں مگر وہ ہیں کہ ان باتوں کو سنتے نہیں اور کافر کافر دجّال دجّال کہہ کر شور مچاتے ہیں۔میں صاف طور پر کہتا ہوں کہ قرآن شریف سے تم ثابت کرو کہ مسیح زندہ آسمان پر چلا گیا ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیت کے خلاف کوئی امر پیش کرو۔اور یا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر پہلا اجماع ہوا اس کا خلاف دکھاؤ تو جواب نہیں ملتا۔پھر بعض لوگ شور مچاتے ہیں کہ اگر آنے والا وہی عیسیٰ ابن مریم اسرائیلی نبی نہ تھا تو آنے والے کا یہ نام کیوں رکھا ؟ میں کہتا ہوں کہ یہ اعتراض کیسی نادانی کا اعتراض ہے۔تعجب کی بات ہے کہ اعتراض کرنے والے اپنے لڑکوں کا نام تو موسیٰ، عیسیٰ، داؤد، احمد، ابراہیم، اسماعیل رکھ لینے کے مجاز ہوں۔اور اگر اللہ تعالیٰ کسی کا نام عیسیٰ رکھ دے تو اس پر اعتراض!!! تائیدات سماوی اور نشانات غور طلب بات تو اس مقام پر یہ تھی کہ آیا آنے والا اپنے ساتھ نشانات رکھتا ہے یا نہیں؟ اگر وہ ان نشانات کو پاتے تو انکار کے لئے جرأت نہ کرتے مگر انہوں نے نشانات اور تائیدات کی تو پروا نہ کی اور دعویٰ سنتے ہی کہہ دیا اَنْتَ کَافِرٌ۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ انبیاء علیہم السلام اور خدا تعالیٰ کے مامورین کی شناخت کا ذریعہ ان کے معجزات اور نشانات ہوتے ہیں۔جیسا کہ گورنمنٹ کی طرف سے کوئی شخص اگر حاکم مقرر کیا جاوے تواس کو نشان دیا جاتا ہے۔اسی طرح پر خداکے مامورین کی شناخت کے لئے بھی نشانات ہوتے ہیں۔اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے میری تائید میں نہ ایک نہ دو نہ دو سو بلکہ لاکھوں نشانات ظاہر کئے۔اور وہ نشانات ایسے نہیں ہیں کہ کوئی انہیں جانتا نہیں بلکہ لاکھوں ان کے گواہ ہیں۔اور میں کہہ سکتا ہوں کہ اس جلسہ میں بھی صدہا ان کے گواہ موجود ہوںگے۔آسمان سے میرے لئے نشانات ظاہر ہوئے ہیں۔زمین سے بھی ظاہر ہوئے۔وہ نشانات جو میرے دعوے کے ساتھ مخصوص تھے اور جن کی قبل از وقت اور نبیوں اور