ملفوظات (جلد 8) — Page 95
۱۹ اور ۲۰ کا فرق ہے۔اب صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو کامل اور زندہ مذہب ہے۔اور اب وقت آگیا ہے کہ پھر اسلام کی عظمت۔شوکت ظاہر ہو۔اور اسی مقصد کو لے کرمیں آیا ہوں۔مسلمانوں کو چاہیے کہ جو انوار و برکات اس وقت آسمان سے اُتر رہے ہیں وہ اُن کی قدر کریں اور اللہ تعالیٰ کا شکر کریں کہ وقت پر ان کی دستگیری ہوئی اور خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اس مصیبت کے وقت اُن کی نصرت فرمائی۔لیکن اگر وہ خدا تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر نہ کریں گے تو خدا تعالیٰ ان کی کچھ پروا نہ کرے گا۔وہ اپنا کام کرکے رہے گا مگر ان پر افسوس ہوگا۔جو موعود آنے والا تھا وہ میں ہوں میں بڑے زور سے اور پورے یقین اور بصیرت سے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ دوسرے مذاہب کو مٹا دے اور اسلام کو غلبہ اور قوت دے۔اب کوئی ہاتھ اور طاقت نہیں جو خدا تعالیٰ کے اس ارادہ کا مقابلہ کرے۔وہ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ (ھود:۱۰۸)ہے۔مسلمانو! یاد رکھو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تمہیں یہ خبر دے دی ہے اور میں نے اپنا پیام پہنچا دیا ہے اب اس کو سننا نہ سننا تمہارے اختیار میں ہے۔یہ سچی بات ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو موعود آنے والا تھا وہ میں ہی ہوں۔اسلام کی زندگی عیسیٰ کے مرنے میں ہے اور یہ بھی پکّی بات ہے کہ اسلام کی زندگی عیسٰی کے مرنے میں ہے۔اگر اس مسئلہ پر غور کرو گے تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ یہی مسئلہ ہے جو عیسائی مذہب کا خاتمہ کر دینے والا ہے۔یہ عیسائی مذہب کا بہت بڑا شہتیر ہے اور اسی پر اس مذہب کی عمارت قائم کی گئی ہے اسے گرنے دو۔یہ معاملہ بڑی صفائی سے طے ہو جاتا اگر میرے مخالف خدا ترسی اور تقویٰ سے کام لیتے۔مگر ایک کا نام لو جو درندگی چھوڑ کر میرے پاس آیا ہو اور اُس نے اپنی تسلّی چاہی ہو۔اُن کا تو یہ حال ہے کہ میرا نام لیتے ہی اُن کے منہ سے جھاگ گِرنی شروع ہو جاتی ہے اور وہ گالیاں دینے لگتے ہیں۔بھلا اس طرح پر بھی کوئی شخص حق کو پا سکتا ہے؟ میں تو قرآن شریف کے نصوص صریحہ کو پیش کرتا ہوں اور